ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَتَوَكَّأُ: میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں، اس پر بھروسہ کرتا ہوں۔
- أَهُشُّ: میں اس سے درخت کے پتے جھاڑتا ہوں تاکہ وہ میری بکریوں کے چارے کے لیے گر جائیں۔
- مَآرِبُ: حاجتیں، ضروریات، فوائد۔
تفسیر:
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا کہ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ تو انہوں نے بڑے سادہ اور فطری انداز میں جواب دیا: "یہ میری عصا ہے۔" پھر انہوں نے اس کے استعمالات بیان کیے جو ایک چرواہے کی زندگی میں عام ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: "میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں" یعنی چلتے پھرتے، لمبی مسافت طے کرتے وقت، یا کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں اس سے سہارا لیتا ہوں۔ "اور میں اس سے اپنی بکریوں کے لیے (درختوں کے) پتے جھاڑتا ہوں" یعنی جب درختوں کی شاخیں اونچی ہوتی ہیں اور بکریاں ان تک نہیں پہنچ پاتیں، تو میں اپنی عصا سے شاخوں کو مار کر پتے گرادیتا ہوں تاکہ میری بکریاں چر سکیں۔ یہ ایک بڑی محنت اور شفقت کی بات ہے کہ آپ اپنے جانوروں کا خود خیال رکھتے ہیں۔
پھر فرمایا: "اور میرے لیے اس میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں" یعنی اس عصا کے اور بھی کئی استعمالات ہیں جو میں نے ابھی بیان نہیں کیے، جیسے سفر میں اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا، راستے میں رکاوٹیں ہٹانا، سامان اٹھانا، یا شکاری جانوروں سے بچاؤ وغیرہ۔ یہ جواب بڑا ہی پیارا اور سادہ تھا، جس سے اللہ تعالیٰ کو اپنے نبی کی سادگی اور بے تکلفی پسند آئی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سی باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں۔ اول یہ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کام کو چھوٹا نہیں سمجھا، بلکہ بڑی محبت سے اپنی عصا کے فوائد بیان کیے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر کام، چاہے وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، اگر خلوص اور محبت سے کیا جائے تو اللہ کے نزدیک مقبول ہے۔ دوم یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے گفتگو کرتے ہیں اور ان کے حالات جانتے ہیں، پھر بھی وہ ان سے پوچھتے ہیں تاکہ ان کی محبت اور بندگی کا اظہار ہو۔ سوم یہ کہ ایک مومن کی زندگی سادگی اور قناعت پر مبنی ہوتی ہے، وہ اپنے معمولی وسائل کو بھی اللہ کی رحمت سمجھ کر استعمال کرتا ہے۔ اور جب اللہ چاہتا ہے تو اسی معمولی عصا کو معجزہ بنا دیتا ہے جو فرعون کے جادوگروں کو شکست دیتا ہے اور سمندر کو شق کرتا ہے۔ یہ سبق ہے کہ اللہ کی قدرت کسی چیز کی ظاہری حیثیت سے مشروط نہیں، بلکہ وہ جس چیز کو چاہے عظیم بنا دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے معمولی وسائل کو حقیر نہ سمجھیں، بلکہ انہیں اللہ کی رحمت سمجھ کر استعمال کریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ وہی ہے جو چھوٹی چیزوں سے بڑے کام لیتا ہے۔
📜 آیت 16-20 — طہ
ترجمہ — طہ 18
سورہ طہ آیت 18 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے۔ اس پر میں…سورہ آیت 18/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 16–20. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








