ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَحَسُّوا: انہوں نے محسوس کیا، دیکھ لیا، یا جان لیا۔
- بَأْسَنَا: ہمارا عذاب، ہماری سخت گرفت اور ہلاکت۔
- یَرْکُضُونَ: دوڑتے ہیں، بھاگتے ہیں، تیزی سے بھاگنا۔
تفسیر:
جب ان ظالموں نے ہمارے عذاب کی آہٹ محسوس کی، یعنی عذاب کی پہلی علامات اور اس کے آثار ان کے سامنے آگئے، اور انہوں نے دیکھ لیا کہ ہلاکت قریب آگئی ہے، تو اس وقت وہ اپنی بستیوں سے نکل کر تیزی سے بھاگنے لگے۔ لیکن یہ بھاگنا کہاں کام آتا؟ اللہ کے عذاب سے بھاگنا ممکن نہیں، کیونکہ اللہ کی گرفت ہر جگہ پہنچتی ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب انہیں یقین ہوگیا کہ ان کی ساری طاقت، ان کے محل، ان کی دولت، سب کچھ بیکار ہے، اور اب وہ صرف اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن افسوس! یہ کوشش بھی بے سود تھی، کیونکہ اللہ کا عذاب انہیں ہر طرف سے گھیر چکا تھا۔
یہ آیت ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتی ہے کہ انسان کو اللہ کی نافرمانی سے ڈرنا چاہیے، اور جب تک مہلت ملے، توبہ کر لینی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ رحیم اور کریم ہے، وہ توبہ کرنے والوں کو معاف کر دیتا ہے، لیکن جب عذاب آجائے، تو پھر توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کے احکامات پر عمل کریں، اور اس کے عذاب سے پہلے ہی اپنے گناہوں سے توبہ کر لیں۔ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔ ہم دعا کریں کہ اللہ ہمیں اپنی اطاعت کی توفیق دے اور ہمیں عذاب سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 10-14 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 12
سورہ انبیاء آیت 12 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب انہوں نے ہمارے (مقدمہ) عذاب کو دیکھا تو لگے…سورہ آیت 12/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 10–14. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








