انبیاء · 95/112
ترجمہ تلفظ — انبیاء
وَحَرَامٌ عَلَىٰ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ۝٩٥
Wa haraamun `alaa qaryatin ahlaknaahaaa annahum laa yarji`oon
📖 اردو ترجمہ
اور جس بستی (والوں) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ (وہ دنیا کی طرف رجوع کریں) وہ رجوع نہیں کریں گے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • حَرَامٌ: یہاں اس کا مطلب "ممتنع" اور "ناممکن" ہے، یعنی جو چیز ہو ہی نہ سکے۔
  • قَرْيَةٍ: بستی یا شہر، مراد اس کے رہنے والے ہیں۔
  • أَهْلَكْنَاهَا: جسے ہم نے ہلاک کیا، یعنی عذاب کے ذریعے تباہ کر دیا۔
  • لَا يَرْجِعُونَ: وہ لوٹ کر نہیں آئیں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں ایک اٹل اور حتمی قانون بیان فرما رہے ہیں کہ جن بستیوں کے لوگوں نے کفر و ظلم اور سرکشی کی انتہا کر دی، اور ان پر عذاب کا فیصلہ صادر ہو گیا، ان کے لیے یہ بات قطعی طور پر ناممکن اور ممنوع ہے کہ وہ دنیا میں واپس آ سکیں۔ چاہے وہ اس لیے واپس آنا چاہیں کہ اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اپنے کیے پر نادم ہو کر نیک اعمال کریں، یا کسی اور غرض سے، یہ راستہ ان پر ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

یہ حکم ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا، ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور اپنی سرکشی میں حد سے تجاوز کیا۔ جب اللہ کا عذاب آ گیا اور ہلاکت کا فیصلہ نافذ ہو گیا، تو پھر رجوع اور واپسی کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتا ہے۔

بعض مفسرین نے اس کا ایک اور مفہوم بھی بیان کیا ہے کہ یہ آیت قیامت کے دن کے حوالے سے ہے، یعنی ان ہلاک شدہ بستیوں کے لوگوں کا دنیا میں واپس آنا تو ناممکن ہے، لیکن ان کا دوبارہ اٹھایا جانا اور حشر کے لیے جمع ہونا یقینی ہے۔ وہ آخرت میں ضرور اٹھائے جائیں گے اور اپنے اعمال کا بدلہ پائیں گے۔ گویا اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ منکرینِ بعث جو سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا نہیں ہوگا، ان کی یہ خواہش اور ان کا یہ خیال غلط ہے۔ ان کا دنیا میں واپس آنا تو محال ہے، لیکن آخرت میں ان کا اٹھایا جانا یقینی اور لازمی ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ کی طرف سے دیا گیا موقع اور مہلت بہت قیمتی ہے۔ جب تک انسان زندہ ہے، اس کے پاس توبہ اور اصلاح کا دروازہ کھلا ہے۔ لیکن جب موت آ جائے یا عذاب نازل ہو جائے، تو پھر کوئی واپسی نہیں، کوئی توبہ قبول نہیں، اور کوئی موقع ہاتھ نہیں آتا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں اور جب تک سانس چل رہی ہے، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اپنے اعمال سنواریں اور اللہ کے احکام پر عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے، وہ توبہ کرنے والوں کو قبول کرتا ہے اور گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ مگر یاد رکھیں، یہ موقع ہمیشہ نہیں رہتا، اس لیے آج ہی سے نیکی کا راستہ اختیار کریں اور اللہ کی رحمت کے طالب بنیں۔



📜 آیت 93-97 — انبیاء

93وَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ ۖ كُلٌّ إِلَيْنَا رَاجِعُونَ
اور یہ لوگ اپنے معاملے میں باہم متفرق ہوگئے۔ (مگر) سب ہماری طرف رجوع کرنے والے ہیں
94فَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْيِهِ وَإِنَّا لَهُ كَاتِبُونَ
جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کی کوشش رائیگاں نہ جائے گی۔ اور ہم اس کے لئے (ثواب اعمال) لکھ رہے ہیں
95وَحَرَامٌ عَلَىٰ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ
اور جس بستی (والوں) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ (وہ دنیا کی طرف رجوع کریں) وہ رجوع نہیں کریں گے
96حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ
یہاں تک کہ یاجوج ماجوج کھول دیئے جائیں اور وہ ہر بلندی سے دوڑ رہے ہوں
97وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَإِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ أَبْصَارُ الَّذِينَ كَفَرُوا يَا وَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَٰذَا بَلْ كُنَّا ظَالِمِينَ
اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب آجائے تو ناگاہ کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں (اور کہنے لگیں کہ) ہائے شامت ہم اس (حال) سے غفلت میں رہے بلکہ (اپنے حق میں) ظالم تھے
انبیاءقرآن فہرست
112آیت
مکیRevelation
95آیت

ترجمہ — انبیاء 95

سورہ انبیاء آیت 95 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جس بستی (والوں) کو ہم نے ہلاک کردیا محال…

سورہ آیت 95/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 93–97. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں