ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- وَرَدُوهَا: اس میں داخل ہونا، اس پر پہنچنا۔
- خَالِدُونَ: ہمیشہ رہنے والے، دائمی طور پر قیام پذیر۔
تفسیرِ آیہ:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکینِ عرب کے اس غلط عقیدے کا رد کیا ہے جو وہ اپنے معبودوں (بتوں، پتھروں، درختوں اور اپنے بڑوں) کے بارے میں رکھتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ معبود ان کے لیے شفاعت کریں گے اور انہیں اللہ کے قریب کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ معبود حقیقت میں ایسے ہوتے جو عبادت کے لائق ہوتے اور ان میں کوئی الٰہیت کی صفت پائی جاتی، تو وہ خود جہنم میں داخل نہ ہوتے۔ کیونکہ جو چیز جہنم میں داخل ہو کر عذاب کا شکار ہو، وہ کبھی معبود نہیں ہو سکتی۔ معبود تو وہ ہوتا ہے جو عذاب سے بچانے والا ہو، نہ کہ خود عذاب میں مبتلا ہونے والا۔
پھر فرمایا کہ عابد اور معبود دونوں — یعنی جنہوں نے ان کی عبادت کی اور جن کی عبادت کی گئی — سب جہنم میں داخل ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہیں گے۔ ان کے لیے وہاں سے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی، نہ کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی سفارش کرنے والا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ انسان اپنی زندگی میں کسی کو اپنا معبود بنا لیتا ہے — خواہ وہ مال ہو، اولاد ہو، شہرت ہو، یا کوئی شخصیت — اور اس کی خاطر سب کچھ قربان کر دیتا ہے۔ لیکن قیامت کے دن یہ سب اسے چھوڑ دیں گے اور وہ خود بھی عذاب کا شکار ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بتا رہے ہیں کہ صرف وہی ذات عبادت کے لائق ہے جو خود عذاب سے پاک ہو اور اپنے بندوں کو عذاب سے بچانے کی قدرت رکھے — اور وہ ذات صرف اللہ کی ہے۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو صرف اللہ کی محبت سے بھریں، اسی کی عبادت کریں اور اسی سے مدد مانگیں، تاکہ ہم اس عظیم عذاب سے بچ سکیں اور اللہ کی رحمت کے سایے میں جنت کی نعمتوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے فیض یاب ہوں۔
📜 آیت 97-101 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 99
سورہ انبیاء آیت 99 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اگر یہ لوگ (درحقیقت) معبود ہوتے تو اس میں داخل…سورہ آیت 99/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 97–101. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








