ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- ہادوا: یہود کہلانے والے۔
- صابئین: وہ لوگ جو اپنی اصلی فطرت پر قائم رہے، نہ ان کا کوئی مقررہ دین تھا جس کی وہ پیروی کرتے، بعض مفسرین نے انہیں انبیاء میں سے کسی نبی کی امت کا ایک گروہ قرار دیا ہے۔
- مجوس: آگ، سورج اور چاند کی پوجا کرنے والے۔
- اشرکوا: بتوں اور معبودانِ باطلہ کو اللہ کا شریک ٹھہرانے والے۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان تمام گروہوں کا ذکر فرمایا ہے جن کا تعلق مختلف ادیان و مذاہب سے ہے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ایمان لائے یعنی امت محمدیہ کے مخلص مومنین، اور وہ بھی جنہوں نے یہودیت کو اپنایا، اور صابئین جو اپنی فطرت پر قائم رہے، اور نصاریٰ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، اور مجوس جو آگ اور ستاروں کی پرستش کرتے ہیں، اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اور بتوں کو پوجا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان تمام گروہوں کے درمیان فیصلہ قیامت کے دن ہوگا۔ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے عدل کامل کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا، مومنین کو جنت میں داخل کرے گا اور کافروں کو جہنم میں ڈال دے گا۔ یہ فیصلہ کسی کی رائے یا خواہش پر نہیں ہوگا بلکہ اللہ کے علم کامل اور عدل مطلق کی بنیاد پر ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ہر چیز پر شاہد ہے، یعنی اس کے علم میں ہر شخص کے اعمال، اقوال اور نیتوں کا مکمل احاطہ ہے۔ کوئی عمل، چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا یا پوشیدہ ہو، اس سے مخفی نہیں ہے۔ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے اور جانتا ہے، اور قیامت کے دن ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ عظیم سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نظام عدل کامل ہے۔ کوئی شخص اپنے اعمال سے بھاگ نہیں سکتا، ہر عمل کا حساب ہوگا۔ یہ بات ہمارے دلوں میں اللہ کا خوف اور اس کی رحمت کی امید دونوں پیدا کرتی ہے۔ اگر ہم نیکی کریں گے تو اللہ ہمیں جنت سے نوازے گا، اور اگر برائی کریں گے تو اس کا انجام بھگتنا ہوگا۔
اس آیت میں ایک اور اہم پیغام یہ ہے کہ نجات کا راستہ صرف ایمان اور عمل صالح ہے، نہ کہ محض کسی گروہ یا قوم سے تعلق رکھنا۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اپنے خالق کی طرف رجوع کریں، اس کی وحدانیت کو پہچانیں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائیں۔ جو لوگ حق کو قبول کر لیں گے، ان کے لیے کامیابی ہے، اور جو حق سے منہ موڑیں گے، ان کا انجام نہایت برا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اپنے اعمال کو سنواریں اور اس دن کے لیے تیاری کریں جب ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ آمین۔
📜 آیت 15-19 — حج
ترجمہ — حج 17
سورہ حج آیت 17 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو لوگ مومن (یعنی مسلمان) ہیں اور جو یہودی ہیں…سورہ آیت 17/78 — حج الحج (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حج سنیں, حج ترجمہ, حج mp3, حج pdf. آیت 15–19. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








