اس روز بادشاہی خدا ہی کی ہوگی۔ اور ان میں فیصلہ کردے گا تو جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الْمُلْكُ: بادشاہت اور حکومت۔
يَوْمَئِذٍ: اس دن (یعنی قیامت کے دن)۔
يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ: ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔
جَنَّاتِ النَّعِيمِ: نعمتوں والی جنتیں۔
تفسیر:
قیامت کا دن وہ عظیم دن ہوگا جب تمام تر بادشاہت اور اختیار صرف اللہ تعالیٰ کا ہوگا۔ اس دن کوئی بادشاہ، کوئی حکمران، کوئی طاقت ور شخصیت اپنا کوئی اختیار استعمال نہیں کر سکے گا۔ آج دنیا میں لوگ اپنی طاقت، دولت اور عہدے پر نازاں ہیں، لیکن اس دن سب کچھ ختم ہو جائے گا اور صرف اللہ کی حکومت ہوگی۔ وہی اپنے بندوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا۔
اس دن اللہ تعالیٰ مؤمنوں اور کافروں کے درمیان حق و باطل کا فیصلہ کرے گا۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، ان کے لیے نعمتوں سے بھری جنتیں ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ جنتیں وہ انعام ہیں جو اللہ نے اپنے نیک بندوں کے لیے تیار کی ہیں، جن میں وہ ہر قسم کی خوشیوں اور آرام سے لطف اندوز ہوں گے۔
یاد رکھیے! یہ دنیا کا دن نہیں ہے، بلکہ وہ دن ہے جب ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ ایمان اور نیک عمل ہی وہ چیز ہیں جو اس دن انسان کو کامیاب کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بہت مہربانی فرمائی ہے کہ انہیں جنت کی خوشخبری دی اور انہیں نیک عمل کی توفیق عطا فرمائی۔ آئیے ہم سب اس عظیم دن کی تیاری کریں، اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور نیک اعمال میں مشغول رہیں تاکہ ہم بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہو سکیں جنہیں جنات النعیم کی نعمت نصیب ہوگی۔
اور یہ بھی غرض ہے کہ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے وہ جان لیں کہ وہ (یعنی وحی) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو وہ اس پر ایمان لائیں اور ان کے دل خدا کے آگے عاجزی کریں۔ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں خدا ان کو سیدھے رستے کی طرف ہدایت کرتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔