ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ: ہم نے ان پر کھولا
- بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیدٍ: عذاب شدید کا دروازہ
- مُبْلِسُونَ: ناامید، حیران و پریشان، ہر خیر سے مایوس
تفسیر:
یعنی جب تک ان کافروں اور منکروں کو ڈھیل دی جاتی ہے اور وہ اپنی سرکشی میں بڑھتے جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں مہلت دیتا ہے، لیکن جب وہ حد سے تجاوز کر جاتے ہیں تو پھر ان پر عذاب کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ یہ عذاب شدید ہوتا ہے، چاہے وہ دنیا میں ہو جیسے بدر کے دن قتل، یا آخرت کا عذاب ہو۔ جب یہ عذاب آتا ہے تو وہ یکدم مبلس ہو جاتے ہیں، یعنی ہر خیر سے مایوس، حیران و پریشان، اور سمجھ نہیں پاتے کہ کیا کریں۔ ان کی ساری امیدیں خاک میں مل جاتی ہیں، اور وہ اپنے انجام پر پشیمان ہوتے ہیں، مگر اس وقت پشیمانی کچھ کام نہیں آتی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی سنت کا بیان ہے کہ وہ بندوں پر عذاب اس وقت نازل کرتا ہے جب وہ نصیحت قبول نہیں کرتے اور اپنی سرکشی پر اڑے رہتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑی نصیحت ہے کہ ہم اللہ کی رحمت اور مغفرت کے دروازے سے فائدہ اٹھائیں، توبہ کریں، اور اپنے اعمال سنوار لیں۔ اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے، وہ چاہتا ہے کہ بندے اس کی طرف رجوع کریں، لیکن اگر وہ برابر غفلت میں رہیں تو پھر عذاب کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کے احکام پر عمل کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، کیونکہ اللہ کی رحمت وسیع ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت شدید ہے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ کی طرف پلٹنے کا دروازہ کھلا ہے، اسے غنیمت جانیں اور اپنی آخرت سنواریں۔
📜 آیت 75-79 — مؤمنون
ترجمہ — مؤمنون 77
سورہ مؤمنون آیت 77 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہاں تک کہ جب ہم نے پر عذاب شدید کا…سورہ آیت 77/118 — مؤمنون المؤمنون (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مؤمنون سنیں, مؤمنون ترجمہ, مؤمنون mp3, مؤمنون pdf. آیت 75–79. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








