ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مَدَّ الظِّلَّ: سایہ کو پھیلایا، لمبا کیا۔
- سَاکِنًا: ٹھہرا ہوا، ثابت، جو حرکت نہ کرے۔
- دَلِیلًا: نشان، علامت، راہ دکھانے والا۔
تفسیر:
اے نبی کریم ﷺ! کیا آپ نے اپنے رب کے اس شاندار کارخانۂ قدرت پر غور نہیں کیا کہ اس نے سایہ کو کیسے پھیلایا؟ یعنی طلوعِ فجر سے طلوعِ آفتاب تک زمین پر ٹھنڈا اور لمبا سایہ پھیلا ہوا ہوتا ہے، جو انسانوں کے لیے رحمت اور آرام کا باعث ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو اس سایے کو ہمیشہ کے لیے قائم و دائم رکھ دیتا، نہ وہ گھٹتا اور نہ پھیلتا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ پھر اس نے سورج کو اس سایے کا نشان اور دلیل بنایا، یعنی سورج کی روشنی اور اس کی حرکت سے سایہ پہچانا جاتا ہے۔ جب سورج نکلتا ہے تو سایہ چھوٹا ہوتا جاتا ہے، اور جب سورج ڈھلتا ہے تو سایہ لمبا ہوتا ہے۔ اس طرح سورج کی گردش سے سایہ کی کمی و بیشی ظاہر ہوتی ہے۔
یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت اور اس کی کامل حکمت کی نشانی ہے۔ وہی ہے جس نے رات اور دن، روشنی اور اندھیرے، سایہ اور دھوپ کو پیدا کیا اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر ایک نظامِ عالم قائم کیا۔ یہ نظام اتنا مضبوط اور منظم ہے کہ ذرا سی بھی بے ترتیبی ہو تو پوری کائنات درہم برہم ہو جائے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے ان مظاہر کی طرف ہماری توجہ دلاتا ہے تاکہ ہم ان پر غور کریں اور اپنے رب کو پہچانیں۔ جو شخص ان نشانیوں پر غور کرے گا وہ یقیناً اس نتیجے پر پہنچے گا کہ یہ سب کچھ بے مقصد نہیں ہے، بلکہ ایک عظیم خالق نے اسے پیدا کیا ہے جو اکیلا عبادت کے لائق ہے۔
یہ سایہ اور سورج کا یہ نظام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جس طرح سایہ سورج کی آمد سے پہچانا جاتا ہے، اسی طرح ہم اپنے رب کی نشانیوں سے اسے پہچانیں۔ جس طرح سایہ سورج کے بغیر نہیں ہو سکتا، اسی طرح ہماری زندگی اللہ کی رحمت اور مدد کے بغیر نہیں چل سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے سائے ہر وقت ہمارے اوپر پھیلائے ہوئے ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم ان نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہیں۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کامل ہے، وہ جب چاہتا ہے کسی چیز کو بدل دیتا ہے، اور جب چاہتا ہے اسے قائم رکھتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے معاملات میں اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیے اور اس کی قدرت و حکمت پر مکمل یقین رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے سایہ کو سورج کی دلیل بنایا، اس لیے کہ اشیاء اپنے اضداد سے پہچانی جاتی ہیں — جیسے سایہ سورج سے، اندھیرا روشنی سے، اور راحت مشقت سے۔ یہی حکمت ہماری زندگی میں بھی ہے کہ ہم مشکلات میں صبر کریں تو آسانیاں نصیب ہوتی ہیں، اور اندھیرے کے بعد روشنی آتی ہے۔
📜 آیت 43-47 — فرقان
ترجمہ — فرقان 45
سورہ فرقان آیت 45 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بلکہ تم نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کو نہیں دیکھا…سورہ آیت 45/77 — فرقان الفرقان (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فرقان سنیں, فرقان ترجمہ, فرقان mp3, فرقان pdf. آیت 43–47. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








