ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- قَوْمُ نُوحٍ: حضرت نوح علیہ السلام کی قوم۔
- كَذَّبَتْ: جھٹلایا۔
- الْمُرْسَلِینَ: پیغمبروں کو۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کا حال بیان فرمایا ہے کہ انہوں نے اپنے نبی حضرت نوح علیہ السلام کو جھٹلایا۔ چنانچہ جب انہوں نے اپنے نبی کو نہ مانا تو گویا انہوں نے تمام رسولوں کو جھٹلایا، کیونکہ تمام انبیاء علیہم السلام کا پیغام ایک ہی ہے اور وہ ہے توحید اور اللہ کی عبادت۔ جو شخص ایک نبی کو جھٹلاتا ہے، وہ درحقیقت تمام انبیاء کو جھٹلاتا ہے، کیونکہ سب ایک ہی اللہ کی طرف سے آئے تھے اور ایک ہی دین کی دعوت دیتے تھے۔
حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو نصیحت کی اور فرمایا: کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟ میں تمہارے پاس اللہ کا امانت دار رسول بن کر آیا ہوں، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں تم سے اس تبلیغِ رسالت کا کوئی اجر نہیں مانگتا، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔ پس تم اللہ کے عذاب سے ڈرو اور اس کے حکموں کی تعمیل کرو۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ نبیوں کی دعوت ہمیشہ ایک جیسی رہی ہے — اللہ سے ڈرنا، اس کی عبادت کرنا اور رسول کی اطاعت کرنا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو بڑی محبت اور شفقت سے سمجھایا، لیکن انہوں نے تکبر اور ضد کی وجہ سے حق کو قبول نہ کیا اور آخرکار اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوئے۔ آج بھی ہمارے لیے نجات کا راستہ وہی ہے: اللہ سے ڈرنا، اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنا اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حبیب ﷺ کی سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 103-107 — شعراء
ترجمہ — شعراء 105
سورہ شعراء آیت 105 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : قوم نوح نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایاسورہ آیت 105/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 103–107. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








