شعراء · 111/227
ترجمہ تلفظ — شعراء
۞ قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ ۝١١١
Qaalooo anu`minu laka wattaba `akal arzaloon
📖 اردو ترجمہ
وہ بولے کہ کیا ہم تم کو مان لیں اور تمہارے پیرو تو رذیل لوگ ہوتے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ

معانی الفاظ:

  • أَنُؤْمِنُ لَكَ: کیا ہم آپ پر ایمان لائیں؟
  • وَاتَّبَعَكَ: حالانکہ آپ کی پیروی کی ہے
  • الْأَرْذَلُونَ: رذیل لوگ، ادنیٰ اور حقیر سمجھے جانے والے افراد، جن کا پیشہ اور معاشرتی حیثیت پست تھی

تفسیر:

جب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی توحید کی دعوت دی اور انہیں عذاب الٰہی سے ڈرایا، تو قوم کے سرداروں اور بڑے لوگوں نے تکبر اور غرور کے ساتھ جواب دیا: "کیا ہم آپ پر ایمان لائیں، حالانکہ آپ کی پیروی کرنے والے تو صرف رذیل اور ادنیٰ لوگ ہیں؟" ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ آپ کے گرد جمع ہیں، وہ ہمارے معاشرے کے کمزور، غریب اور حقیر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، نہ کہ سرداروں اور اشراف میں سے ہیں۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ حق کی پہچان کا معیار معاشرتی حیثیت اور دولت ہے، حالانکہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔

یہ وہی پرانا شیطانی طریقہ ہے جو ہر دور میں حق کے داعیوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔ جب کوئی شخص حق لے کر آتا ہے تو بڑے لوگ کہتے ہیں کہ اس کے پیروکار تو صرف کمزور اور حقیر لوگ ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی دولت وہی پاتے ہیں جن کے دل اللہ کی طرف جھک جاتے ہیں، چاہے وہ معاشرے میں کسی بھی مقام پر ہوں۔ غور کریں کہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت پر سب سے پہلے ایمان لانے والے مزدور، غلام اور کمزور لوگ تھے، لیکن یہی لوگ بعد میں نجات پانے والوں میں شامل ہوئے، جبکہ بڑے سردار غرق ہو گئے۔

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ حق کو قبول کرنے کے لیے معاشرتی حیثیت، دولت یا جاہ و مرتبہ شرط نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی لوگ محبوب ہیں جو سچائی کو پہچانیں اور اس پر عمل کریں، چاہے وہ دنیا کی نظر میں کتنے ہی حقیر کیوں نہ ہوں۔ آج بھی جو لوگ اسلام کی دعوت کو اس بہانے رد کرتے ہیں کہ اس کے ماننے والے غریب یا پسماندہ ہیں، وہ دراصل قوم نوح کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حق کو اس کے ماننے والوں کی حیثیت سے نہ پرکھیں، بلکہ خود حق کو پہچانیں اور اس پر عمل کریں، کیونکہ قیامت کے دن ہم سے ہمارے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا، نہ کہ ہمارے پیروکاروں کی تعداد یا ان کی معاشرتی حیثیت کے بارے میں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 109-113 — شعراء

109وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ
اور اس کام کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو خدائے رب العالمین ہی پر ہے
110فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
تو خدا سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو
111۞ قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ
وہ بولے کہ کیا ہم تم کو مان لیں اور تمہارے پیرو تو رذیل لوگ ہوتے ہیں
112قَالَ وَمَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
نوح نے کہا کہ مجھے کیا معلوم کہ وہ کیا کرتے ہیں
113إِنْ حِسَابُهُمْ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّي ۖ لَوْ تَشْعُرُونَ
ان کا حساب (اعمال) میرے پروردگار کے ذمے ہے کاش تم سمجھو
شعراءقرآن فہرست
227آیت
مکیRevelation
111آیت

ترجمہ — شعراء 111

سورہ شعراء آیت 111 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہ بولے کہ کیا ہم تم کو مان لیں اور…

سورہ آیت 111/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 109–113. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں