ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- عِلْمی: میرا علم، میری آگاہی
- یَعْمَلُونَ: وہ عمل کرتے تھے
تفسیر آیت:
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے سرداروں اور بڑے لوگوں نے جب یہ اعتراض کیا کہ آپ کے پیروکار تو صرف ادنیٰ اور غریب لوگ ہیں، اور انہوں نے انہیں حقیر جان کر انکار کیا، تو نوح علیہ السلام نے انہیں جو جواب دیا وہ نہایت ہی دانائی اور حکمت سے بھرپور تھا۔ انہوں نے فرمایا: "مجھے کیا علم ہے کہ یہ لوگ کیا عمل کرتے ہیں؟" یعنی میرا کام ان کے ظاہری حال اور ان کے پیشوں اور معاش کا جائزہ لینا نہیں ہے، نہ ہی میں ان کے دلوں کے راز جاننے کا ذمہ دار ہوں۔ میری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ میں انہیں اللہ کی طرف بلاؤں اور ان کے ایمان کی دعوت دوں۔
یہاں نوح علیہ السلام کا مقصد یہ تھا کہ ایمان کا معیار حسب و نسب، دولت اور دنیاوی مرتبہ نہیں ہے، بلکہ اصل چیز ایمان اور تقویٰ ہے۔ جو شخص بھی دل سے اللہ پر ایمان لے آیا، وہ ہمارے نزدیک عزت والا ہے، چاہے وہ غریب ہو یا امیر، کمزور ہو یا طاقتور۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ "تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو"۔
نوح علیہ السلام کا یہ جواب ہر زمانے کے لیے ایک عظیم سبق ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم لوگوں کو ان کے ظاہری حالات، ان کے پیشوں یا ان کی معاشی حیثیت کی بنا پر نہ پرکھیں، بلکہ ان کے ایمان اور ان کے اخلاق کو دیکھیں۔ اسلام میں کسی بھی انسان کو اس کے خاندان، اس کی دولت یا اس کے عہدے کی وجہ سے برتری حاصل نہیں ہوتی، بلکہ برتری صرف تقویٰ اور نیک اعمال کی بنیاد پر ہے۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں لوگوں کے دلوں کے بارے میں زیادہ تجسس نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ دلوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے۔ ہمارا کام صرف ظاہری اعمال کی بنیاد پر لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے، اور ان کی ہدایت کی دعا کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس خوبصورت تعلیم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 110-114 — شعراء
ترجمہ — شعراء 112
سورہ شعراء آیت 112 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : نوح نے کہا کہ مجھے کیا معلوم کہ وہ کیا…سورہ آیت 112/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 110–114. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








