شعراء · 115/227
ترجمہ تلفظ — شعراء
إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ ۝١١٥
In ana illaa nazeerum mubeen
📖 اردو ترجمہ
میں تو صرف کھول کھول کر نصیحت کرنے والا ہوں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • نَذِيرٌ: ڈرانے والا، خبردار کرنے والا
  • مُبِينٌ: واضح، روشن، صریح

تفسیر:

اس آیت میں نبی کریم ﷺ کا ایک اہم اعلان ہے جو قریش کے سرداروں کے اس مطالبے کے جواب میں کیا گیا تھا کہ آپ ﷺ کمزور اور غریب مسلمانوں کو اپنے پاس سے دور کر دیں تاکہ وہ آپ کی دعوت پر ایمان لائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ صاف اور واضح الفاظ میں یہ اعلان کر دیں کہ میرا کام صرف لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرانا اور انہیں راہ راست کی طرف بلانا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "میں تو صرف ایک واضح ڈرانے والا ہوں" یعنی میری ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ میں لوگوں کے مال و دولت یا ان کے حسب و نسب کو دیکھوں، نہ ہی میرا کام یہ ہے کہ کسی کو اپنی مجلس سے دور کروں یا قریب کروں۔ میرا کام صرف یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈراؤں اور انہیں نیکی اور تقویٰ کی دعوت دوں۔ جو شخص بھی اس دعوت کو قبول کرے گا، خواہ وہ غریب ہو یا امیر، کمزور ہو یا طاقتور، وہ میرے نزدیک برابر ہے۔

یہ اعلان دراصل اسلام کے اس عظیم اصول کی تعلیم دیتا ہے کہ کسی بھی انسان کی فضیلت کا معیار اس کا تقویٰ اور اللہ سے قربت ہے، نہ کہ اس کی دنیاوی حیثیت۔ نبی کریم ﷺ نے اس طرح یہ ثابت کیا کہ آپ ﷺ کی دعوت میں کوئی امتیاز نہیں، اور آپ ﷺ کسی کے دباؤ میں آ کر کسی مومن کو اپنے سے دور نہیں کر سکتے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ عظیم سبق ملتا ہے کہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو تمام انسانوں کو یکساں سمجھتا ہے۔ چاہے کوئی شخص غریب ہو یا امیر، کالی ہو یا گوری، عرب ہو یا عجمی، سب اللہ کے نزدیک برابر ہیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم لوگوں کے ساتھ ان کی دنیاوی حیثیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کے ایمان اور عمل کی بنیاد پر تعلق رکھیں۔ نیز یہ کہ ہمارا کام صرف اللہ کا پیغام پہنچانا ہے، ہدایت دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے ہمیں کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی کسی کی خوشنودی کے لیے حق کو چھوڑنا چاہیے۔

یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ حق کی دعوت میں کبھی کسی قسم کی تخصیص یا امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔ جو شخص بھی حق قبول کرے، اسے عزت دو اور جو انکار کرے، اسے نرمی اور حکمت سے سمجھاؤ۔ یہی نبی کریم ﷺ کا طریقہ تھا، اور یہی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 113-117 — شعراء

113إِنْ حِسَابُهُمْ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّي ۖ لَوْ تَشْعُرُونَ
ان کا حساب (اعمال) میرے پروردگار کے ذمے ہے کاش تم سمجھو
114وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِينَ
اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں
115إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ
میں تو صرف کھول کھول کر نصیحت کرنے والا ہوں
116قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ
انہوں نے کہا کہ نوح اگر تم باز نہ آؤ گے تو سنگسار کردیئے جاؤ گے
117قَالَ رَبِّ إِنَّ قَوْمِي كَذَّبُونِ
نوح نے کہا کہ پروردگار میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا
شعراءقرآن فہرست
227آیت
مکیRevelation
115آیت

ترجمہ — شعراء 115

سورہ شعراء آیت 115 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : میں تو صرف کھول کھول کر نصیحت کرنے والا ہوں

سورہ آیت 115/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 113–117. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں