ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- كَذَّبَتْ: جھلایا، تکذیب کیا
- قَوْمُ لُوطٍ: حضرت لوط علیہ السلام کی قوم
- الْمُرْسَلِينَ: اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کا ذکر فرمایا ہے، جنہوں نے اپنے نبی حضرت لوط علیہ السلام کی دعوت کو جھٹلایا اور ان کی رسالت کا انکار کیا۔ اگرچہ انہوں نے ظاہری طور پر صرف ایک رسول کی تکذیب کی تھی، لیکن چونکہ تمام انبیاء علیہم السلام کا پیغام ایک ہی تھا — توحید اور اللہ کی اطاعت — اس لیے ان کی تکذیب درحقیقت تمام رسولوں کی تکذیب کے برابر تھی۔ جو شخص ایک نبی کو جھٹلاتا ہے، وہ گویا تمام انبیاء کو جھٹلاتا ہے، کیونکہ سب کا دین اور پیغام ایک ہے۔
حضرت لوط علیہ السلام کی قوم اپنی بداعمالیوں اور اخلاقی پستی کی وجہ سے مشہور تھی، انہوں نے نہ صرف توحید کا انکار کیا بلکہ ایسے گناہوں میں مبتلا تھے جو ان سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیے تھے۔ ان کی سرکشی اور نافرمانی نے انہیں اللہ کے عذاب کا مستحق بنا دیا، اور آخر کار اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کر کے دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کے رسولوں کی اطاعت اور ان کی دعوت کو قبول کرنا ہی نجات کا ذریعہ ہے۔ آج بھی جو شخص قرآن اور سنت پر عمل کرتا ہے، وہ گویا تمام انبیاء کے پیغام پر عمل کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کو مضبوطی سے تھامیں، کیونکہ ان کی اطاعت ہی اللہ کی اطاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے رسولوں کی محبت اور ان کی سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ان قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کر کے اپنی زندگیوں کو سنوارنے کی ہمت دے۔ آمین۔
📜 آیت 158-162 — شعراء
ترجمہ — شعراء 160
سورہ شعراء آیت 160 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (اور قوم) لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایاسورہ آیت 160/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 158–162. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








