ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- ثُعْبَانٌ: بڑا سانپ، نر سانپ۔
- مُبِينٌ: واضح، ظاہر، جو آنکھوں سے دیکھا جا سکے۔
تفسیر:
جب فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے معجزہ طلب کیا تو آپ نے اپنی لاٹھی زمین پر ڈال دی۔ وہ لاٹھی فوراً ایک بہت بڑا سانپ بن گئی جو صاف طور پر دیکھا جا سکتا تھا۔ یہ کوئی شعبدہ یا جادو نہیں تھا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ظہور تھا۔ سانپ اتنا واضح اور حقیقی تھا کہ کسی کو شک کی گنجائش نہ تھی۔ یہ معجزہ اس لیے تھا کہ فرعون اور اس کے درباری جان لیں کہ موسیٰ علیہ السلام جادوگر نہیں، بلکہ اللہ کے سچے رسول ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے اور انہیں ایسی قوت عطا فرماتا ہے جو دنیا کے تمام جادوگروں اور طاقتوروں سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ جب سچائی اور حق کے ساتھ ہوں تو اللہ خود ہمارا محافظ بن جاتا ہے۔ آج بھی اگر ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں تو وہ ہمیں ہر مشکل سے نکالنے کی طاقت دیتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کی یہ کامیابی ہمیں بتاتی ہے کہ حق کبھی نہیں ہارتا، چاہے باطل کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی میں بھی اللہ پر مکمل یقین رکھیں اور اس کی راہ میں کسی سے نہ ڈریں۔
📜 آیت 30-34 — شعراء
ترجمہ — شعراء 32
سورہ شعراء آیت 32 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پس انہوں نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت…سورہ آیت 32/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 30–34. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








