ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الْمَلَإِ: سرداران، معززین اور بڑے لوگ۔
- حَوْلَهُ: اس کے ارد گرد۔
- سَاحِرٌ عَلِيمٌ: ماہر جادوگر، جادو میں کامل مہارت رکھنے والا۔
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ایک بڑا سانپ بن گیا، اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ دیکھنے والوں کے لیے سفید چمکتا ہوا نظر آیا۔ یہ معجزہ دیکھ کر فرعون کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، بلکہ اس نے اپنے ارد گرد موجود سرداروں اور معززین کی طرف رخ کر کے کہا: "یقیناً یہ شخص ایک ماہر جادوگر ہے، جو جادو کے فن میں پوری مہارت رکھتا ہے۔" فرعون نے یہ بات اس لیے کہی تاکہ لوگوں کے دلوں میں موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کی ہیبت پیدا کرے اور انہیں ایمان لانے سے روکے۔ وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے فوراً یہ تسلیم کر لیا کہ یہ اللہ کا معجزہ ہے تو اس کی بادشاہت خطرے میں پڑ جائے گی، اس لیے اس نے اسے جادو قرار دے کر اپنے مقام کو بچانے کی کوشش کی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ باطل کے علمبردار حق کے واضح دلائل کو بھی جھٹلانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حق کبھی چھپ نہیں سکتا۔ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو جادو کہہ کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، مگر اللہ کا نور ہمیشہ غالب رہتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حق کو پہچانیں اور اس پر ثابت قدم رہیں، چاہے مخالفین کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی ہمیشہ مدد فرماتا ہے، اور باطل کی چالیں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں۔
📜 آیت 32-36 — شعراء
ترجمہ — شعراء 34
سورہ شعراء آیت 34 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : فرعون نے اپنے گرد کے سرداروں سے کہا کہ یہ…سورہ آیت 34/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 32–36. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








