اور جس روز صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں سب گھبرا اُٹھیں گے مگر وہ جسے خدا چاہے اور سب اس کے پاس عاجز ہو کر چلے آئیں گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الصور: اس سے مراد وہ صور (نرسنگا) ہے جس میں اسرافیل علیہ السلام پھونکیں گے۔
فزع: شدید خوف اور گھبراہٹ۔
داخرین: ذلیل و خوار، عاجز اور مطیع ہو کر۔
تفسیر آیت:
اے نبی کریم ﷺ! آپ اس دن کو یاد کریں جب اسرافیل علیہ السلام صور میں پھونکیں گے۔ اس ہولناک نفخہ کی شدت سے آسمانوں اور زمین میں جو بھی مخلوق ہے، سب پر شدید خوف اور گھبراہٹ طاری ہو جائے گی۔ یہ فزع اتنا سخت ہوگا کہ ہر جاندار اپنے آپ کو بھول جائے گا۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے جن خاص بندوں کو اس فزع سے محفوظ رکھنے کا ارادہ فرمایا ہے، وہ اس ہول سے مستثنیٰ ہوں گے۔ یہ اللہ کا خصوصی فضل اور کرم ہوگا جو وہ اپنے برگزیدہ بندوں پر فرمائے گا۔
اس کے بعد تمام مخلوقات، خواہ وہ آسمانوں والی ہوں یا زمین والی، سب اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گی۔ وہ اس طرح آئیں گی جیسے کوئی ذلیل اور عاجز غلام اپنے آقا کے سامنے جھک کر حاضر ہوتا ہے۔ کوئی بھی سرکشی نہیں کر سکے گا، کوئی بھی انکار نہیں کر سکے گا۔ سب کے سب اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہوں گے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی یاد دلاتی ہے تاکہ ہم اس دن کے لیے تیاری کریں۔ جس دن سب کچھ ختم ہو جائے گا اور ہر شخص اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے سامنے پیش ہوگا۔ آج اگر ہم اللہ کے سامنے اپنے آپ کو عاجز اور مطیع بنا لیں، اس کی عبادت کریں اور اس کے احکام پر عمل کریں، تو اس دن ہم ان مستثنیٰ بندوں میں شامل ہو سکیں گے جنہیں اللہ اپنے فضل سے فزع سے محفوظ رکھے گا۔ یاد رکھیں، اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت شدید ہے۔ آج کا دن عمل کا ہے، کل کا دن حساب کا۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھالیں تاکہ اس عظیم دن ہم کامیاب ہو سکیں۔
کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو (اس لئے) بنایا ہے کہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن (بنایا ہے کہ اس میں کام کریں) بےشک اس میں مومن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں
اور تم پہاڑوں کو دیکھتے ہو تو خیال کرتے ہو کہ (اپنی جگہ پر) کھڑے ہیں مگر وہ (اس روز) اس طرح اُڑے پھریں گے جیسے بادل۔ (یہ) خدا کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔ بےشک وہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔