اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم نیک لوگوں میں داخل کریں گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
آمَنُوا: ایمان لائے، دل سے تصدیق کی۔
عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ: نیک اور صالح اعمال کیے۔
لَنُدْخِلَنَّهُمْ: ہم انہیں ضرور داخل کریں گے۔
فِي الصَّالِحِينَ: صالح لوگوں کے زمرے میں، نیک بندوں کی جماعت میں۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عملِ صالح کی عظیم فضیلت بیان فرمائی ہے۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر سچے دل سے ایمان لائے اور اپنے ایمان کو نیک اعمال سے مضبوط کیا، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں ضرور صالحین کے زمرے میں داخل کرے گا۔ یعنی قیامت کے دن انہیں انبیاء، صدیقین، شہداء اور نیک بندوں کی جماعت کے ساتھ اٹھایا جائے گا، اور انہیں وہی بلند مرتبہ اور عظیم اجر عطا کیا جائے گا جو صالحین کو ملتا ہے۔ یہ اللہ کا سنہرا وعدہ ہے جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں میں ہمیشہ سچا ہے۔
اس آیت سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ ایمان صرف زبانی دعویٰ نہیں بلکہ اس کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے اعمال کو بھی صالح بنائیں۔ جب ایمان اور عملِ صالح دونوں اکٹھے ہوں تو انسان اللہ کے نزدیک محبوب اور مقرب بندہ بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کو اپنی خاص رحمت سے نوازتا ہے اور انہیں اپنے نیک بندوں کی صف میں شامل فرماتا ہے۔ یہ وہ خوش قسمتی ہے جس کی دنیا کی کوئی دولت یا شہرت برابری نہیں کر سکتی۔
دعوتی پہلو:
اے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمارے لیے امید اور خوشخبری کا پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں یہ موقع دیا ہے کہ ہم ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں، تو ہم بھی ان صالحین میں شامل ہو سکتے ہیں جن کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں، نماز، روزہ، زکوٰۃ، صدقہ، نیکی، حسنِ اخلاق اور دوسرے صالح اعمال کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یاد رکھیں، اللہ کا وعدہ سچا ہے اور وہ اپنے بندوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا۔ آئیے ہم سب مل کر اس عظیم وعدے کی طرف بڑھیں اور اپنی زندگیوں کو صالحین کے راستے پر چلائیں، تاکہ ہم بھی اس دنیا میں نیک نامی اور آخرت میں جنت کی نعمتیں حاصل کر سکیں۔ اللہ ہمیں توفیق دے۔ آمین۔
اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ (اے مخاطب) اگر تیرے ماں باپ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جس کی حقیقت کی تجھے واقفیت نہیں۔ تو ان کا کہنا نہ مانیو۔ تم (سب) کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ پھر جو کچھ تم کرتے تھے میں تم کو جتا دوں گا
اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر ایمان لائے جب اُن کو خدا (کے رستے) میں کوئی ایذا پہنچتی ہے تو لوگوں کی ایذا کو (یوں) سمجھتے ہیں جیسے خدا کا عذاب۔ اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے مدد پہنچے تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ تھے۔ کیا جو اہل عالم کے سینوں میں ہے خدا اس سے واقف نہیں؟
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔