یہ ان کاموں کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھ آگے بھیجتے رہے ہیں اور خدا تو بندوں پر مطلق ظلم نہیں کرتا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ: جو کچھ تم نے خود اپنے ہاتھوں سے آگے بھیجا، یعنی اپنے اعمال و افعال۔
بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ: بندوں پر ظلم کرنے والا (یہاں مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی ذرہ برابر بھی ظلم نہ کرنے والا)۔
تفسیر:
یہ عذاب جو آج تمہیں دیا جا رہا ہے، یہ محض اللہ کی طرف سے کوئی ناحق سزا نہیں ہے، بلکہ یہ تمہارے اپنے کیے کا نتیجہ ہے۔ جو کچھ تم نے دنیا میں کیا، جو گناہ، معصیت، اور برے اعمال تم نے اپنی زبان سے کہے، اپنے ہاتھوں سے کیے، اور اپنے دلوں میں چھپائے رکھے، انہیں کا بدلہ ہے جو آج تمہیں دیا جا رہا ہے۔
اور یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ وہ ہر ایک کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیتا ہے۔ اگر کوئی نیکی کرتا ہے تو اسے اس کا اجر عطا فرماتا ہے، اور اگر کوئی برائی کرتا ہے تو اسے اس کی سزا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ عادل ہے، اس کی عدالت میں کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوتا، نہ کسی کی نیکی کم کی جاتی ہے اور نہ کسی کی برائی میں اضافہ کیا جاتا ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک عظیم حقیقت سے روشناس کراتی ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں، اس کا نتیجہ ہمیں خود بھگتنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم پر ظلم نہیں کرتا، بلکہ ہم خود اپنے اعمال سے اپنی تقدیر بناتے ہیں۔ اگر ہم نیکی کریں گے تو ہمیں جنت ملے گی، اور اگر برائی کریں گے تو ہمیں جہنم کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ آیت ہمیں اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کی تلقین کرتی ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو دیکھیں کہ ہم کیا کما رہے ہیں؟ کیا ہم ایسے اعمال کر رہے ہیں جو ہمیں اللہ کی رحمت کے قریب لے جائیں، یا ایسے اعمال جو ہمیں اس کے عذاب کی طرف لے جائیں؟ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اختیار دیا ہے، اور وہ ہم سے بے حد محبت کرتا ہے، چاہتا ہے کہ ہم نیکی کریں اور اس کی رحمت سے بہرہ مند ہوں۔ لہٰذا آئیے ہم اپنے اعمال کو سنواریں، اپنے دلوں کو پاک کریں، اور اللہ کی اطاعت میں اپنی زندگی گزاریں تاکہ ہم اس کی رحمت اور جنت کے حقدار بن سکیں۔
جو لوگ مال میں جو خدا نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے بخل کرتے ہیں وہ اس بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں۔ (وہ اچھا نہیں) بلکہ ان کے لئے برا ہے وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا۔ اور آسمانوں اور زمین کا وارث خدا ہی ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہوخدا کو معلوم ہے
خدا نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا فقیر ہے۔ اور ہم امیر ہیں۔ یہ جو کہتے ہیں ہم اس کو لکھ لیں گے۔ اور پیغمبروں کو جو یہ ناحق قتل کرتے رہے ہیں اس کو بھی (قلمبند کر رکھیں گے) اور (قیامت کے روز) کہیں گے کہ عذاب (آتش) سوزاں کے مزے چکھتے رہو
جو لوگ کہتے ہی کہ خدا نے ہمیں حکم بھیجا ہے کہ جب تک کوئی پیغمبر ہمارے پاس ایسی نیاز لے کر نہ آئے جس کو آگ آکر کھا جائے تب تک ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ مجھ سے پہلے کئی پیغمبر تمہارے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے اور وہ (معجزہ) بھی لائے جو تم کہتے ہو تو اگر سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا؟
پھر اگر یہ لوگ تم کو سچا نہ سمجھیں تو تم سے پہلے بہت سے پیغمبر کھلی ہوئی نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آچکے ہیں اور لوگوں نے ان کو بھی سچا نہیں سمجھا
سورہ آیت 182/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 180–184. اردو ترجمہ: فارسی.
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔