Laqad sami`al laahu qawlal lazeena qaalooo innal laaha faqeerunw wa nahnu aghniyaaa`; sanaktubu maa qaaloo wa qatlahumul Ambiyaa`a bighairi haqqinw wa naqoolu zooqoo `azaaba Ihreeq
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
خدا نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا فقیر ہے۔ اور ہم امیر ہیں۔ یہ جو کہتے ہیں ہم اس کو لکھ لیں گے۔ اور پیغمبروں کو جو یہ ناحق قتل کرتے رہے ہیں اس کو بھی (قلمبند کر رکھیں گے) اور (قیامت کے روز) کہیں گے کہ عذاب (آتش) سوزاں کے مزے چکھتے رہو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
هر آينه خدا شنيد سخن آن كسان را كه مىگفتند: خدا بينواست و ما توانگريم. گفتارشان را و نيز اينكه پيامبران را به ناحق مىكشتند، خواهيم نوشت، و گوييم: بچشيد عذاب آتش سوزان را.
خدا نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا فقیر ہے۔ اور ہم امیر ہیں۔ یہ جو کہتے ہیں ہم اس کو لکھ لیں گے۔ اور پیغمبروں کو جو یہ ناحق قتل کرتے رہے ہیں اس کو بھی (قلمبند کر رکھیں گے) اور (قیامت کے روز) کہیں گے کہ عذاب (آتش) سوزاں کے مزے چکھتے رہو
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہود کے اس گستاخانہ اور کفرانہ قول کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے اللہ کے بارے میں کہا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے مالوں میں سے قرض دینے کا حکم دیا، جیسا کہ دوسری آیت میں ہے "مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا" (کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے)، تو انہوں نے طنزاً کہا: "اللہ فقیر ہے اور ہم امیر ہیں" یعنی ان کا خیال تھا کہ اللہ کو ہماری مدد کی ضرورت ہے، حالانکہ یہ ان کی انتہائی جہالت اور گستاخی تھی۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان کا یہ قول ہم نے سن لیا ہے اور ہم اسے لکھ رہے ہیں، اور ان کے اس قول کے ساتھ ساتھ ان کے اس جرم کو بھی لکھ رہے ہیں کہ انہوں نے اپنے آباء و اجداد کے ذریعے اللہ کے انبیاء کو ناحق قتل کیا، اور وہ اس پر راضی تھے۔ یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہے اور قیامت کے دن انہیں اس کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: "ذوقوا عذاب الحریق" یعنی چکھو اس جلانے والی آگ کا عذاب۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ہر قول اور فعل سے پوری طرح باخبر ہے، چاہے وہ کتنا ہی چھپا ہوا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو مال عطا کیا ہے اور انہیں حکم دیا ہے کہ وہ اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کریں، لیکن یہ اللہ کی حاجت نہیں ہے، بلکہ یہ بندے کے لیے باعث برکت اور اجر ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں، وہ خود غنی ہے اور تمام مخلوق اس کی محتاج ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے ساتھ ادب کا دامن نہ چھوڑیں، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اس کی راہ میں خرچ کرنے کو اپنی خوش قسمتی سمجھیں۔ یہود کی طرح گستاخی کرنے والوں کا انجام ہمیشہ ذلت اور عذاب ہے، جبکہ اللہ کے ساتھ حسن ادب رکھنے والوں کے لیے اللہ کی رحمت اور مغفرت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رکھے اور ہمیں ان لوگوں کے راستے سے بچائے جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ گستاخی کی۔ آمین۔
(لوگو) جب تک خدا ناپاک کو پاک سے الگ نہ کردے گا مومنوں کو اس حال میں جس میں تم ہو ہرگز نہیں رہنے دے گا۔ اور الله تم کوغیب کی باتوں سے بھی مطلع نہیں کرے گاالبتہ خدا اپنے پیغمبروں میں سے جسے چاہتا ہے انتخاب کرلیتا ہے۔ تو تم خدا پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤاور اگر ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو تم کو اجر عظیم ملے گا
جو لوگ مال میں جو خدا نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے بخل کرتے ہیں وہ اس بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں۔ (وہ اچھا نہیں) بلکہ ان کے لئے برا ہے وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا۔ اور آسمانوں اور زمین کا وارث خدا ہی ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہوخدا کو معلوم ہے
خدا نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا فقیر ہے۔ اور ہم امیر ہیں۔ یہ جو کہتے ہیں ہم اس کو لکھ لیں گے۔ اور پیغمبروں کو جو یہ ناحق قتل کرتے رہے ہیں اس کو بھی (قلمبند کر رکھیں گے) اور (قیامت کے روز) کہیں گے کہ عذاب (آتش) سوزاں کے مزے چکھتے رہو
جو لوگ کہتے ہی کہ خدا نے ہمیں حکم بھیجا ہے کہ جب تک کوئی پیغمبر ہمارے پاس ایسی نیاز لے کر نہ آئے جس کو آگ آکر کھا جائے تب تک ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ مجھ سے پہلے کئی پیغمبر تمہارے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے اور وہ (معجزہ) بھی لائے جو تم کہتے ہو تو اگر سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا؟
سورہ آیت 181/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 179–183. اردو ترجمہ: فارسی.
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔