ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- اللَّهُمَّ: اے اللہ! (یہ لفظ اللہ کے نام کی ایک صیغہ ہے جو صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے)
- مَالِكَ الْمُلْكِ: بادشاہی کا مالک، جس کے قبضے میں ساری کائنات کی بادشاہی ہے
- تُؤْتِي: تو دیتا ہے، عطا کرتا ہے
- تَنزِعُ: چھین لیتا ہے، سلب کر لیتا ہے
- تُعِزُّ: عزت دیتا ہے، سربلند کرتا ہے
- تُذِلُّ: ذلیل کرتا ہے، پست کر دیتا ہے
- بِيَدِكَ الْخَيْرُ: تیرے ہی ہاتھ میں ہے بھلائی (یعنی سارا خیر تیرے اختیار میں ہے)
- قَدِيرٌ: ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا
تفسیر:
اے نبی! آپ اپنے رب کے حضور اس طرح دعا اور ثنا کریں: اے اللہ! تو ہی ساری بادشاہی کا مالک ہے۔ آسمانوں اور زمین کی ساری سلطنت، سارے خزانے، سارے اختیارات تیرے ہی قبضے میں ہیں۔ تو جسے چاہتا ہے بادشاہی عطا فرماتا ہے، اور جس سے چاہتا ہے سلطنت چھین لیتا ہے۔ تو ہی عزت دینے والا ہے، جسے چاہے سربلند کر دے، اور جسے چاہے پست اور ذلیل کر دے۔ یہ سب کچھ تیری حکمت اور تیرے عدل کے مطابق ہوتا ہے، کوئی تجھ سے پوچھنے والا نہیں۔ ساری بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، خیر کا کوئی ذرہ بھی تیری مرضی کے بغیر کسی تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور بیشک تو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے، تیرے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔
یہ آیت مبارکہ ہمیں ایک عظیم سبق سکھاتی ہے کہ اس کائنات کا اصل مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ جو شخص بھی اقتدار، عزت، دولت یا مرتبہ پاتا ہے، وہ اللہ ہی کی عطا سے پاتا ہے، اور جس سے یہ سب چھن جاتا ہے، وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے چھن جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں کبھی اپنے مقام و مرتبے پر گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے، اور نہ ہی کسی کی ذلت و پستی پر افسوس کرنا چاہیے، کیونکہ سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
یہ آیت مسلمانوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ جب ہم اس سے دعا کرتے ہیں تو ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ وہ ہر مشکل کو آسان کر سکتا ہے، ہر بند دروازے کو کھول سکتا ہے، اور ہر پریشانی کو دور کر سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے معاملات میں صرف اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے، اور اس سے ہمیشہ امید وابستہ رکھنی چاہیے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت "ید" (ہاتھ) کا ذکر ہے، جسے ہم اس کے شایانِ شان مانتے ہیں، بغیر کسی تاویل کے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات مخلوق کی مانند نہیں ہیں۔
یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم اپنے رب سے اس کے ناموں اور صفات کے وسیلے سے مانگیں، اور یقین رکھیں کہ وہی عزت و ذلت، دولت و فقر، اور خیر و برکت کا اصل مالک ہے۔ جو شخص اس حقیقت کو سمجھ لے، اس کا دل کبھی مخلوق کی طرف نہیں جھکے گا، اور وہ ہمیشہ اللہ کی رضا پر قناعت کرے گا۔
📜 آیت 24-28 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 26
سورہ آل عمران آیت 26 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہو کہ اے خدا (اے) بادشاہی کے مالک تو جس…سورہ آیت 26/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 24–28. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








