لقمان · 17/34
ترجمہ تلفظ — لقمان
يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ ۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ۝١٧
Yaa bunaiya aqimis-Salaata waamur bilma`roofi wanha `anil munkari wasbir `alaa maaa asaabaka inna zaalika min `azmil umoor
📖 اردو ترجمہ
بیٹا نماز کی پابندی رکھنا اور (لوگوں کو) اچھے کاموں کے کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تجھ پر واقع ہو اس پر صبر کرنا۔ بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

اے میرے پیارے بیٹے! نماز قائم کرو، یعنی اسے اس کے تمام ارکان، شرائط اور واجبات کے ساتھ مکمل ادا کرو، اور نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو، لیکن نرمی، محبت اور حکمت کے ساتھ، اپنی طاقت اور استطاعت کے مطابق۔ اور جو تکلیف یا اذیت تمہیں اس راہ میں پہنچے، اس پر صبر کرو، کیونکہ یہ وہ چیزیں ہیں جن کا اللہ نے حکم دیا ہے اور جن پر مضبوطی سے عمل کرنا ضروری ہے۔ یہ وصیتیں ان امور میں سے ہیں جنہیں اللہ نے تاکید کے ساتھ لازم قرار دیا ہے، اور ان میں کوئی چارہ اور اختیار نہیں، بلکہ انہیں بجالانا ہی ہے۔

یہ نصیحت حضرت لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو ہے، اور اس میں سب سے پہلے نماز کا حکم ہے، کیونکہ نماز دین کا ستون ہے اور بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کا ذریعہ ہے۔ پھر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم ہے، یعنی اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بھی نیکی کی طرف بلانا اور برائی سے روکنا، لیکن اس کے لیے بھی حکمت اور نرمی ضروری ہے۔ اور ساتھ ہی صبر کی تلقین کی گئی ہے، کیونکہ جو شخص حق کا راستہ اپناتا ہے اور لوگوں کو اس کی دعوت دیتا ہے، اسے لوگوں کی طرف سے تکلیفیں اور اذیتیں بھی پہنچتی ہیں، تو ان پر صبر کرنا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

یاد رکھیے! یہ وہ عظیم امور ہیں جنہیں اللہ نے اپنے بندوں پر لازم کیا ہے، اور ان پر عمل کرنے والے کے لیے اللہ کے ہاں بڑا اجر اور ثواب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے دلوں کو اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رکھے۔ آمین۔



📜 آیت 15-19 — لقمان

15وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖ وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا ۖ وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ۚ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ ہاں دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع لائے اس کے رستے پر چلنا پھر تم کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ تو جو کام تم کرتے رہے میں سب سے تم کو آگاہ کروں گا
16يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ
(لقمان نے یہ بھی کہا کہ) بیٹا اگر کوئی عمل (بالفرض) رائی کے دانے کے برابر بھی (چھوٹا) ہو اور ہو بھی کسی پتھر کے اندر یا آسمانوں میں (مخفی ہو) یا زمین میں۔ خدا اُس کو قیامت کے دن لاموجود کرے گا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا باریک بین (اور) خبردار ہے
17يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ ۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ
بیٹا نماز کی پابندی رکھنا اور (لوگوں کو) اچھے کاموں کے کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تجھ پر واقع ہو اس پر صبر کرنا۔ بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں
18وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ
اور (ازراہ غرور) لوگوں سے گال نہ پھلانا اور زمین میں اکڑ کر نہ چلنا۔ کہ خدا کسی اترانے والے خود پسند کو پسند نہیں کرتا
19وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ ۚ إِنَّ أَنكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ
اور اپنی چال میں اعتدال کئے رہنا اور (بولتے وقت) آواز نیچی رکھنا کیونکہ (اُونچی آواز گدھوں کی ہے اور کچھ شک نہیں کہ) سب آوازوں سے بُری آواز گدھوں کی ہے
لقمانقرآن فہرست
34آیت
مکیRevelation
17آیت

ترجمہ — لقمان 17

سورہ لقمان آیت 17 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بیٹا نماز کی پابندی رکھنا اور (لوگوں کو) اچھے کاموں…

سورہ آیت 17/34 — لقمان لقمان (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: لقمان سنیں, لقمان ترجمہ, لقمان mp3, لقمان pdf. آیت 15–19. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں