لقمان · 27/34
ترجمہ تلفظ — لقمان
وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ۝٢٧
Wa law annamaa fil ardi min shajaratin aqlaamunw wal bahru yamudduhoo mim ba`dihee sab`atu abhurim maa nafidat Kalimaatul laah; innal laaha `azeezun Hakeem
📖 اردو ترجمہ
اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں اور سمندر (کا تمام پانی) سیاہی ہو (اور) اس کے بعد سات سمندر اور (سیاہی ہو جائیں) تو خدا کی باتیں (یعنی اس کی صفتیں) ختم نہ ہوں۔ بیشک خدا غالب حکمت والا ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَقْلَامٌ: قلمیں (لکھنے کے قلم)
  • يَمُدُّهُ: اسے بڑھائے، اس میں شامل ہو
  • مِن بَعْدِهِ: اس کے علاوہ، اس کے پیچھے
  • نَفِدَتْ: ختم ہو جائیں
  • كَلِمَاتُ اللَّهِ: اللہ کے کلمات (اس کے علم، حکم اور قدرت کی نشانیاں)

تفسیر:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام اور علم کی لامحدودیت کو ایک بہت خوبصورت اور واضح مثال کے ذریعے بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اگر زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں، اور سمندر روشنائی بن جائے، اور پھر اس سمندر کے ساتھ سات مزید سمندر مل جائیں تاکہ روشنائی کا ذخیرہ اور بھی بڑھ جائے، اور ان تمام قلموں اور اس تمام روشنائی سے اللہ تعالیٰ کے کلمات لکھے جانے لگیں، تو وہ تمام قلم ختم ہو جائیں گے اور وہ ساری روشنائی بھی ختم ہو جائے گی، مگر اللہ کے کلمات کبھی ختم نہیں ہوں گے۔

یہ مثال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم، اس کی حکمتیں، اس کی مخلوقات کے بارے میں معلومات، اور اس کے احکام و فرامین سب لامحدود ہیں۔ کوئی بھی مخلوق ان کا احاطہ نہیں کر سکتی، نہ انہیں شمار کیا جا سکتا ہے۔ اللہ کے کلمات سے مراد اس کے علم، قدرت، حکمت اور اس کی تمام مخلوقات کی حقیقتوں کا بیان ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ کلام کی بھی تصدیق ہے کہ اللہ بولتا ہے، وہ کلام کرتا ہے، لیکن اس کا کلام اس کی ذات کے مطابق ہے، نہ کسی مخلوق کے کلام جیسا۔ یہ صفت اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت ہے جیسا کہ اس کے شایانِ شان ہے۔

آخر میں فرمایا: "بے شک اللہ عزت والا ہے، حکمت والا ہے" یعنی وہ ایسی غالب قدرت رکھتا ہے کہ کوئی اسے مغلوب نہیں کر سکتا، اور وہ اپنی تمام مخلوقات کے معاملات میں حکمت کے ساتھ تدبیر فرماتا ہے۔ اس کی عزت اور حکمت کا تقاضا ہے کہ اس کے کلمات ختم نہ ہوں، کیونکہ اس کا علم اور اس کی قدرت لامحدود ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت پر غور کرنے سے انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور کبریائی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ جب ہم سوچتے ہیں کہ زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور سارے سمندر روشنائی، تب بھی اللہ کے کلمات ختم نہیں ہو سکتے، تو ہمیں اپنی محدودیت اور اللہ کی لامحدودیت کا احساس ہوتا ہے۔ یہ ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے خالق کی عظمت کو پہچانیں، اس کے کلام (قرآن) کی قدر کریں، اور اس کی اطاعت میں اپنی زندگی گزاریں۔ جو شخص اس عظیم ذات کی طرف رجوع کرتا ہے، وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا، کیونکہ اس کا رب وہ ہے جس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کی عزت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی مدد کرے جو اس کی طرف رجوع کرتے ہیں، اور اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے بندوں کے ساتھ بہترین معاملہ فرمائے۔



📜 آیت 25-29 — لقمان

25وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ۚ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
اور اگر تم اُن سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو بول اُٹھیں گے کہ خدا نے۔ کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے لیکن ان میں اکثر سمجھ نہیں رکھتے
26لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) خدا ہی کا ہے۔ بیشک خدا بےپروا اور سزا وارِ حمد (وثنا) ہے
27وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں اور سمندر (کا تمام پانی) سیاہی ہو (اور) اس کے بعد سات سمندر اور (سیاہی ہو جائیں) تو خدا کی باتیں (یعنی اس کی صفتیں) ختم نہ ہوں۔ بیشک خدا غالب حکمت والا ہے
28مَّا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ ۗ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ
(خدا کو) تمہارا پیدا کرنا اور جِلا اُٹھانا ایک شخص (کے پیدا کرنے اور جلا اُٹھانے) کی طرح ہے۔ بیشک خدا سننے والا دیکھنے والا ہے
29أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى وَأَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اُسی نے سورج اور چاند کو (تمہارے) زیر فرمان کر رکھا ہے۔ ہر ایک ایک وقتِ مقرر تک چل رہا ہے اور یہ کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
لقمانقرآن فہرست
34آیت
مکیRevelation
27آیت

ترجمہ — لقمان 27

سورہ لقمان آیت 27 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں…

سورہ آیت 27/34 — لقمان لقمان (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: لقمان سنیں, لقمان ترجمہ, لقمان mp3, لقمان pdf. آیت 25–29. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں