لقمان · 28/34
ترجمہ تلفظ — لقمان
مَّا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ ۗ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ ۝٢٨
Maa khalqukum wa laa ba`sukum illaa kanafsinw-waa hidah; innal laaha Samee`um Baseer
📖 اردو ترجمہ
(خدا کو) تمہارا پیدا کرنا اور جِلا اُٹھانا ایک شخص (کے پیدا کرنے اور جلا اُٹھانے) کی طرح ہے۔ بیشک خدا سننے والا دیکھنے والا ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • خَلْقُكُمْ: تمہاری پیدائش
  • بَعْثُكُمْ: تمہارا دوبارہ اٹھایا جانا (قیامت کے دن)
  • کَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ: ایک نفس (جان) کی مانند

تفسیر:

اے لوگو! اللہ تعالیٰ تمہاری تخلیق اور تمہارے دوبارہ زندہ کیے جانے کے معاملے میں کوئی دشواری نہیں ہے۔ جس طرح ایک انسان کو پیدا کرنا اور اسے دوبارہ زندہ کرنا اللہ کے لیے آسان ہے، اسی طرح تمام انسانوں کا پیدا کرنا اور ان کا دوبارہ اٹھانا بھی اتنا ہی آسان ہے۔ اللہ کے لیے کثرت اور قلت، بڑا اور چھوٹا سب یکساں ہے۔ وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو صرف "کن" کہتا ہے اور وہ ہو جاتی ہے۔

قیامت کے دن تمام لوگوں کا ایک ساتھ اٹھنا، ان کا حساب کتاب، ان کا جزا و سزا کا ملنا — یہ سب اللہ کے لیے نہایت آسان ہے، بالکل اسی طرح جیسے ایک شخص کا اٹھنا۔ یہ کوئی مشکل یا ناممکن کام نہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ اپنی صفاتِ کمال کا ذکر فرماتا ہے کہ "بے شک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔" یعنی وہ ہر آواز کو سنتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی دھیمی ہو، اور ہر چیز کو دیکھتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی ہو۔ اس کے سمع و بصر میں کوئی حد نہیں، کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں۔ وہ تمہارے تمام اعمال، اقوال اور نیتوں سے باخبر ہے اور ان کا مکمل حساب لے گا۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑی خوشخبری اور طاقت کا پیغام ہے۔ جب ہم جانتے ہیں کہ اللہ کے لیے ہم سب کو دوبارہ زندہ کرنا ایک نفس کو زندہ کرنے جیسا آسان ہے، تو ہمیں قیامت پر یقین مضبوط کرنا چاہیے۔ یہ یقین ہمیں نیک عمل کی ترغیب دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔

اور جب ہمیں معلوم ہے کہ اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے، تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زبان کو غلط باتوں سے بچائیں، اپنی آنکھوں کو حرام سے محفوظ رکھیں، اور اپنے اعمال کو صالح بنائیں۔ کیونکہ ہمارا رب ہر لمحہ ہمارے ساتھ ہے، ہماری ہر حرکت سے باخبر ہے، اور ہر ایک کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دے گا۔

یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کی قدرت لامحدود ہے، اس لیے ہمیں اپنے معاملات میں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ جو اللہ پر یقین رکھتا ہے، اس کے لیے کوئی کام مشکل نہیں۔



📜 آیت 26-30 — لقمان

26لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) خدا ہی کا ہے۔ بیشک خدا بےپروا اور سزا وارِ حمد (وثنا) ہے
27وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں اور سمندر (کا تمام پانی) سیاہی ہو (اور) اس کے بعد سات سمندر اور (سیاہی ہو جائیں) تو خدا کی باتیں (یعنی اس کی صفتیں) ختم نہ ہوں۔ بیشک خدا غالب حکمت والا ہے
28مَّا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ ۗ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ
(خدا کو) تمہارا پیدا کرنا اور جِلا اُٹھانا ایک شخص (کے پیدا کرنے اور جلا اُٹھانے) کی طرح ہے۔ بیشک خدا سننے والا دیکھنے والا ہے
29أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى وَأَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اُسی نے سورج اور چاند کو (تمہارے) زیر فرمان کر رکھا ہے۔ ہر ایک ایک وقتِ مقرر تک چل رہا ہے اور یہ کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
30ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ
یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ لغو ہیں اور یہ کہ خدا ہی عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے
لقمانقرآن فہرست
34آیت
مکیRevelation
28آیت

ترجمہ — لقمان 28

سورہ لقمان آیت 28 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (خدا کو) تمہارا پیدا کرنا اور جِلا اُٹھانا ایک شخص…

سورہ آیت 28/34 — لقمان لقمان (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: لقمان سنیں, لقمان ترجمہ, لقمان mp3, لقمان pdf. آیت 26–30. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں