أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ: بہترین نمونہ اور اچھی پیروی کا ذریعہ۔
يَرْجُو: امید رکھتا ہے، ثواب کی توقع رکھتا ہے۔
ذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا: اللہ کا ذکر بکثرت کرتا ہے، ہر حال میں اسے یاد رکھتا ہے۔
تفسیر:
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو تمہارے لیے بہترین نمونہ قرار دے رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال، اخلاق اور آپ کے تمام احوال — غرضیکہ آپ کی پوری زندگی — ہر اس شخص کے لیے کامل اسوہ ہے جو اللہ سے ملاقات کی امید رکھتا ہے، آخرت کے حساب و کتاب پر یقین رکھتا ہے، اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتا ہے۔
یہ آیت غزوۂ احزاب کے موقع پر نازل ہوئی، جب مسلمانوں کو سخت مشکلات کا سامنا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود میدانِ جنگ میں حصہ لیا، خندق کھودی، اور اپنے صحابہ کے ساتھ مل کر مشقت برداشت کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تمہارے رسول نے خود صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا اور اپنی جان کو خطرے میں ڈالا، تو تمہیں بھی چاہیے کہ انہی کی پیروی کرو اور اپنی جانوں سے بخل نہ کرو۔
یہ اسوہ صرف انہی لوگوں کے لیے ہے جو تین صفات رکھتے ہیں: اولاً، اللہ کی رحمت اور ثواب کی امید رکھتے ہیں؛ ثانیاً، آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے لیے عمل کرتے ہیں؛ ثالثاً، اللہ کا ذکر ہر وقت اور ہر حال میں کرتے ہیں — کھڑے، بیٹھے، لیٹے، خوشی اور غمی میں۔ جو شخص ان صفات سے محروم ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے بھی محروم رہے گا۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمارے لیے ایک عظیم پیغام رکھتی ہے۔ آج اگر ہم اپنی زندگیوں میں سکون، کامیابی اور عزت چاہتے ہیں، تو اس کا واحد راستہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنانا ہے۔ آپ کی زندگی ہر پہلو سے مکمل نمونہ ہے — عبادت میں، معاملات میں، اخلاق میں، صبر میں، اور اللہ کے ذکر میں۔ جب ہم اپنے روزمرہ کے معاملات میں آپ کی سنت کو اپنائیں گے، تو ہماری زندگیاں بدل جائیں گی۔ اللہ کا ذکر کثرت سے کریں، کیونکہ ذکرِ الٰہی دل کو سکون بخشتا ہے اور ایمان کو تازگی دیتا ہے۔ آئیے ہم عہد کریں کہ اپنی زندگی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطابق ڈھالیں گے، تاکہ دنیا میں بھی کامیاب ہوں اور آخرت میں بھی اللہ کی رحمت اور جنت کے حقدار بنیں۔
(یہ اس لئے کہ) تمہارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔ پھر جب ڈر (کا وقت) آئے تو تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں (اور) اُن کی آنکھیں (اسی طرح) پھر رہی ہیں جیسے کسی کو موت سے غشی آرہی ہو۔ پھر جب خوف جاتا رہے تو تیز زبانوں کے ساتھ تمہارے بارے میں زبان درازی کریں اور مال میں بخل کریں۔ یہ لوگ (حقیقت میں) ایمان لائے ہی نہ تھے تو خدا نے ان کے اعمال برباد کر دیئے۔ اور یہ خدا کو آسان تھا
(خوف کے سبب) خیال کرتے ہیں کہ فوجیں نہیں گئیں۔ اور اگر لشکر آجائیں تو تمنا کریں کہ (کاش) گنواروں میں جا رہیں (اور) تمہاری خبر پوچھا کریں۔ اور اگر تمہارے درمیان ہوں تو لڑائی نہ کریں مگر کم
اور جب مومنوں نے (کافروں کے) لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا خدا اور اس کے پیغمبر نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور خدا اور اس کے پیغمبر نے سچ کہا تھا۔ اور اس سے ان کا ایمان اور اطاعت اور زیادہ ہوگئی
مومنوں میں کتنے ہی ایسے شخص ہیں کہ جو اقرار اُنہوں نے خدا سے کیا تھا اس کو سچ کر دکھایا۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جو اپنی نذر سے فارغ ہوگئے اور بعض ایسے ہیں کہ انتظار کر رہے ہیں اور اُنہوں نے (اپنے قول کو) ذرا بھی نہیں بدلا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔