Wa lammaa ra al mu`minoonal Ahzaaba qaaloo haaza maa wa`adanal laahu wa Rasooluh; wa maa zaadahum illaaa eemaananw wa tasleemaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب مومنوں نے (کافروں کے) لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا خدا اور اس کے پیغمبر نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور خدا اور اس کے پیغمبر نے سچ کہا تھا۔ اور اس سے ان کا ایمان اور اطاعت اور زیادہ ہوگئی
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و چون مؤمنان آن گروهها را ديدند، گفتند: اين همان چيزى است كه خدا و پيامبرش به ما وعده دادهاند و خدا و پيامبرش راست گفتهاند. و جز به ايمان و تسليمشان نيفزود.
اور جب مومنوں نے (کافروں کے) لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا خدا اور اس کے پیغمبر نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور خدا اور اس کے پیغمبر نے سچ کہا تھا۔ اور اس سے ان کا ایمان اور اطاعت اور زیادہ ہوگئی
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الأحزاب: وہ تمام گروہ اور فوجیں جو مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے جمع ہوئی تھیں، جن میں قریش، غطفان، بنو قریظہ اور دیگر قبائل شامل تھے۔
تسلیماً: اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، مکمل اطاعت اور انقیاد۔
تفسیر آیت:
جب اہل ایمان نے احزاب (مخالفین کے لشکروں) کو دیکھا جو مدینہ کے گرد جمع ہو کر حملہ آور ہوئے تھے، تو ان کے دلوں میں خوف یا گھبراہٹ پیدا نہیں ہوئی، بلکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدے کو یاد کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور مومنین سے وعدہ کیا تھا کہ ایمان کی راہ میں آزمائشیں آئیں گی، مصیبتیں پیش آئیں گی، لیکن آخر کار فتح و نصرت مومنوں ہی کی ہوگی۔ چنانچہ جب انہوں نے اس بڑے لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے: "یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا" یعنی یہ آزمائش اور ابتلا کا مرحلہ ہے، جس کے بعد اللہ کی مدد اور فتح ضرور آئے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، کیونکہ جو کچھ انہوں نے بتایا تھا وہ حرف بہ حرف پورا ہو رہا ہے۔
اس منظر نے ان کے ایمان میں اضافہ کیا، نہ کہ کمی۔ وہ اللہ پر مزید پختہ یقین رکھنے لگے، اس کے حکم کے سامنے مکمل طور پر سر تسلیم خم کر دیا، اور اس کی مشیت پر راضی ہو گئے۔ ان کا ایمان اور ان کی تسلیم و رضا اس مصیبت کے وقت اور بھی بڑھ گئی، کیونکہ انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ آزمائش اللہ کی طرف سے ہے، اور اس میں خیر ہی خیر ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت مومنین کے اس عظیم کردار کی عکاسی کرتی ہے جو مصیبتوں اور مشکلات کے وقت اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ وہ مشکل حالات میں بھی اللہ کے وعدے پر یقین رکھتے ہیں اور اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے بہترین سبق ہے کہ جب زندگی میں مشکلات آئیں، تو ہمیں گھبرانا نہیں چاہیے، بلکہ اللہ کے وعدوں پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ اللہ نے قرآن میں وعدہ فرمایا ہے کہ "بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے" (الشرح: 6)۔ جو شخص اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے، اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ خوشحالی میں بھی اللہ کا شکر ادا کرے اور مصیبت میں بھی صبر کرے، اور یقین رکھے کہ اللہ کی طرف سے جو بھی فیصلہ آتا ہے، اس میں بھلائی ہی ہوتی ہے۔ یہی وہ ایمان ہے جو انسان کو مضبوط بناتا ہے اور اسے ہر مشکل کا سامنا کرنے کی طاقت دیتا ہے۔ اللہ ہمیں بھی اس قسم کا پختہ ایمان اور تسلیم و رضا عطا فرمائے۔ آمین۔
(خوف کے سبب) خیال کرتے ہیں کہ فوجیں نہیں گئیں۔ اور اگر لشکر آجائیں تو تمنا کریں کہ (کاش) گنواروں میں جا رہیں (اور) تمہاری خبر پوچھا کریں۔ اور اگر تمہارے درمیان ہوں تو لڑائی نہ کریں مگر کم
اور جب مومنوں نے (کافروں کے) لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا خدا اور اس کے پیغمبر نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور خدا اور اس کے پیغمبر نے سچ کہا تھا۔ اور اس سے ان کا ایمان اور اطاعت اور زیادہ ہوگئی
مومنوں میں کتنے ہی ایسے شخص ہیں کہ جو اقرار اُنہوں نے خدا سے کیا تھا اس کو سچ کر دکھایا۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جو اپنی نذر سے فارغ ہوگئے اور بعض ایسے ہیں کہ انتظار کر رہے ہیں اور اُنہوں نے (اپنے قول کو) ذرا بھی نہیں بدلا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔