بےشک خدا ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے۔ وہ تو دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
غیب: وہ چیزیں جو انسانوں سے پوشیدہ ہوں، خواہ وہ آسمانوں میں ہوں یا زمین میں۔
ذات الصدور: دلوں کے اندر چھپی ہوئی باتیں، نیتیں، ارادے، خیالات اور وسوسے۔
تفسیرِ آیہ:
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بتا رہا ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین کے ہر پوشیدہ راز سے مکمل طور پر باخبر ہے۔ کوئی چیز، چاہے وہ کتنی ہی چھپی ہوئی اور پوشیدہ کیوں نہ ہو، اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔ وہ نہ صرف ظاہری اعمال کو دیکھتا ہے بلکہ دلوں کے اندر چھپی ہوئی نیتوں، ارادوں، خیالات اور وسوسوں تک سے بھی خوب واقف ہے۔ انسان چاہے اپنے دل میں کوئی بات چھپائے، کوئی ارادہ پوشیدہ رکھے، کوئی خیال دل میں گزارے، اللہ تعالیٰ اس سب کا علم رکھتا ہے۔
یہ آیت مومن کو اللہ کی عظمت اور اس کے کامل علم کا احساس دلاتی ہے۔ جب انسان کو یہ یقین ہو جائے کہ اللہ اس کے دل کی ہر بات جانتا ہے، تو وہ اپنے دل کو پاک رکھنے کی کوشش کرتا ہے، اپنی نیتوں کو درست کرتا ہے اور اپنے خیالات کو قابو میں رکھتا ہے۔ یہی تقویٰ کی اصل روح ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا سوچیں، ہماری زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو اللہ سے چھپا ہو۔ ہم اپنے دلوں میں جو کچھ رکھتے ہیں، اللہ اسے جانتا ہے۔ یہ حقیقت ہمارے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے، کیونکہ جب ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں اور اپنے دل کی پریشانیاں اس کے سامنے رکھتے ہیں، تو وہ ہماری سنتا ہے اور ہماری مدد کرتا ہے۔ اسی طرح یہ ہمارے لیے ایک انتباہ بھی ہے کہ ہم اپنے دلوں کو پاک رکھیں، کسی کے بارے میں برا خیال نہ رکھیں، کسی سے حسد نہ کریں، اور اپنی نیتوں کو ہمیشہ صاف رکھیں۔ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور اپنے دلوں کو اس کی اطاعت اور محبت سے بھریں، کیونکہ وہی ہمارے دلوں کا مالک ہے اور ہماری ہر پوشیدہ بات کا جاننے والا ہے۔
اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے۔ نہ انہیں موت آئے گی کہ مرجائیں اور نہ ان کا عذاب ہی ان سے ہلکا کیا جائے گا۔ ہم ہر ایک ناشکرے کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
وہ اس میں چلائیں گے کہ اے پروردگار ہم کو نکال لے (اب) ہم نیک عمل کیا کریں گے۔ نہ وہ جو (پہلے) کرتے تھے۔ کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو سوچنا چاہتا سوچ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا۔ تو اب مزے چکھو۔ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں
وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں (پہلوں کا) جانشین بنایا۔ تو جس نے کفر کیا اس کے کفر کا ضرر اسی کو ہے۔ اور کافروں کے حق میں ان کے کفر سے پروردگار کے ہاں ناخوشی ہی بڑھتی ہے اور کافروں کو ان کا کفر نقصان ہی زیادہ کرتا ہے
بھلا تم نے اپنے شریکوں کو دیکھا جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو۔ مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین سے کون سی چیز پیدا کی ہے یا (بتاؤ کہ) آسمانوں میں ان کی شرکت ہے۔ یا ہم نے ان کو کتاب دی ہے تو وہ اس کی سند رکھتے ہیں (ان میں سے کوئی بات بھی نہیں) بلکہ ظالم جو ایک دوسرے کو وعدہ دیتے ہیں محض فریب ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔