ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- نِعْمَةُ رَبّی: میرے رب کا فضل و کرم، یعنی ایمان کی ہدایت اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق۔
- الْمُحْضَرِینَ: ان لوگوں میں شامل ہونا جو عذاب کے لیے حاضر کیے جائیں، یعنی جہنم میں ڈالے جانے والوں کے ساتھ کھڑے ہونا۔
تفسیر:
یہ وہ مقام ہے جب اہلِ جنت میں سے ایک مومن اپنے اس ساتھی (قرین) کو مخاطب کرے گا جو دنیا میں اسے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہا تھا اور آخرت میں اس کا انجام جہنم ہوگا۔ مومن کہے گا: "اگر میرے رب کا فضل و کرم نہ ہوتا، جو اس نے مجھ پر کیا، مجھے ایمان کی ہدایت دی، مجھے گمراہی سے بچایا اور ایمان پر ثابت قدم رکھا، تو میں بھی آج تمہاری طرح عذاب میں مبتلا ہوتا اور تمہارے ساتھ جہنم میں حاضر کیے جانے والوں میں شامل ہوتا۔"
یہ مومن اپنے رب کے اس احسان کو یاد کرتا ہے جو اس پر ہوا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خود اس کی اپنی طاقت اور ہوشیاری اسے نجات نہیں دلا سکتی تھی، بلکہ یہ خالص اللہ کا فضل تھا۔ وہ اس نعمت کا اعتراف کرتا ہے اور اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہمیں اپنے ایمان کو اپنی کمائی نہ سمجھیں، بلکہ یہ اللہ کا خالص فضل ہے۔ جب ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں کہ کتنے لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں، کتنے لوگ حق سے دور ہیں، تو ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں ایمان کی دولت سے نوازا۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے رب سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں ایمان پر ثابت قدم رکھے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل نہ کرے جو عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور اپنے رب کے فضل کا اعتراف کرتے رہیں، کیونکہ یہی وہ چیز ہے جو ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا سکتی ہے۔ اللہ ہمیں اپنے فضل سے ایمان پر ثابت قدم رکھے اور ہمیں اپنے نیک بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 55-59 — صافات
ترجمہ — صافات 57
سورہ صافات آیت 57 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اگر میرے پروردگار کی مہربانی نہ ہوتی تو میں…سورہ آیت 57/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 55–59. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








