ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَفَمَا: کیا ہم (استفهام تقریری کے ساتھ)
- بِمَیِّتِینَ: مرنے والے
تفسیر:
یہ آیت کریمہ اہلِ جنت کے اس مکالمے کا حصہ ہے جو وہ جنت میں اپنے دوزخی قرین (ساتھی) سے کریں گے۔ اس میں مومن اپنے اس ساتھی سے کہتا ہے جو دنیا میں انکارِ آخرت کا مرتکب تھا: "کیا واقعی ہم مرنے والے نہیں ہیں؟" یعنی کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہم ہمیشہ زندہ رہیں گے اور ہمیں کبھی موت نہیں آئے گی؟
یہ سوال تقریری ہے، یعنی اس کا مقصد مخاطب کو اس حقیقت کا اقرار کرانا ہے جس کا وہ دنیا میں انکار کرتا تھا۔ مومن اپنے اس دوزخی ساتھی کو یاد دلاتا ہے کہ دنیا میں وہ قیامت اور حیاتِ ابدی کا مذاق اڑاتا تھا، لیکن اب وہ اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہا ہے۔
اس آیت میں اہلِ جنت کی خوشی اور مسرت کا اظہار ہے کہ وہ موت کے خوف سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئے ہیں۔ ان کے لیے صرف ایک موت تھی جو دنیا میں آئی، اور اب وہ ہمیشہ کی زندگی میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم فضل ہے کہ اس نے اپنے نیک بندوں کو موت کے بعد بھی ایسی زندگی عطا کی جس میں نہ خوف ہے، نہ غم، نہ موت، نہ عذاب۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ آخرت کی زندگی حقیقی اور ابدی ہے، اور دنیا کی زندگی صرف ایک امتحان ہے۔ جو لوگ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں، وہ اس ابدی نعمت کے مستحق ہوتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو اس حقیقت کے پیشِ نظر گزاریں کہ ہم ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے، اور ہمارا انجام ہمارے اعمال پر منحصر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمت سے جنت کی ابدی نعمتوں سے نوازے اور ہمیں موت کے بعد کی زندگی کی تیاری کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 56-60 — صافات
ترجمہ — صافات 58
سورہ صافات آیت 58 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیا (یہ نہیں کہ) ہم (آئندہ کبھی) مرنے کے نہیںسورہ آیت 58/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 56–60. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








