ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مَا مَنَعَكَ: کس چیز نے تجھے روکا۔
- لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ: اس (آدم) کے لیے جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔
- أَسْتَکْبَرْتَ: کیا تو نے تکبر کیا۔
- أَمْ کُنتَ مِنَ الْعَالِینَ: یا تو ان میں سے تھا جو بلند مرتبہ اور سرکش ہیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اپنے اس نافرمان بندے ابلیس سے بازپرس فرمائی اور اسے مخاطب کر کے پوچھا: "اے ابلیس! تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس مخلوق کو سجدہ کرے جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا؟" یہ ایک سخت سوال تھا جو ابلیس کے جرم کو واضح کرنے کے لیے تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دو متبادل صورتیں پیش کیں: یا تو تو نے تکبر کیا اور اپنے آپ کو آدم سے برتر سمجھا، یا تو پہلے سے ہی ان سرکشوں میں سے تھا جو اللہ کے حکم کی تعمیل سے انکار کرتے ہیں۔
یہاں اللہ تعالیٰ کی طرف "یدین" (دو ہاتھوں) کا ذکر ہے، جو اس کی صفت ہے، لیکن ہم مسلمان اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ کی صفات اس کی شان کے لائق ہیں، اور ہم ان کی کیفیت بیان نہیں کرتے، نہ انہیں مخلوق کے مشابہ قرار دیتے ہیں۔ یہ ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم اللہ کی صفات کو ثابت کریں جیسا کہ وہ خود بیان کرے، بغیر تاویل اور بغیر تشبیہ کے۔
اس آیت میں ابلیس کے جرم کی اصل حقیقت واضح ہوتی ہے: وہ تکبر اور خود پسندی کی وجہ سے اللہ کے حکم سے نکل گیا۔ اس نے اپنے علم اور اپنی اصل کو آدم پر فوقیت دی، حالانکہ اللہ نے آدم کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور اسے عزت بخشی۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمارے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ تکبر وہ اخلاقی بیماری ہے جو انسان کو اللہ کی اطاعت سے روک دیتی ہے۔ ابلیس جیسا باعلم اور عابد بھی تکبر کی وجہ سے اللہ کی رحمت سے محروم ہو گیا۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے دلوں سے تکبر نکالیں اور عاجزی و انکساری اختیار کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ عاجزی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور متکبروں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کے حکم کو بغیر کسی حیلے اور بہانے کے قبول کرنا چاہیے، اور جو شخص اللہ کے حکم کو رد کرتا ہے وہ ابلیس کے راستے پر چلتا ہے۔ اللہ ہمیں تکبر سے بچائے اور عاجزی و اطاعت کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 73-77 — ص
ترجمہ — ص 75
سورہ ص آیت 75 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : خدا نے) فرمایا کہ اے ابلیس جس شخص کو میں…سورہ آیت 75/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 73–77. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








