ص · 74/88
ترجمہ تلفظ — ص
إِلَّا إِبْلِيسَ اسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ ۝٧٤
Illaaa Iblees; istakbara wa kaana minal kaafireen
📖 اردو ترجمہ
مگر شیطان اکڑ بیٹھا اور کافروں میں ہوگیا

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • اِسْتَكْبَرَ: تکبر کیا، بڑائی حاصل کی، خود کو بڑا سمجھا۔
  • مِنَ الْکَافِرِیْنَ: کافروں میں سے تھا، یعنی اللہ کے حکم کو ماننے سے انکار کرنے والوں میں شامل ہو گیا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور انہیں اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کیا، تو تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں۔ یہ سجدہ عبادت کا نہیں تھا، بلکہ اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدم علیہ السلام کی عظمت کے اعتراف کے طور پر تھا۔ چنانچہ تمام فرشتوں نے بلا کسی تردد کے، پوری طاعت اور اطاعت کے ساتھ سجدہ کیا۔

لیکن اس اطاعتِ الٰہی سے صرف ابلیس مستثنیٰ رہا۔ اس نے اللہ کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور تکبر کا مظاہرہ کیا۔ اس کا تکبر اس قدر شدید تھا کہ اس نے اپنے رب کے حکم کو حقیر سمجھا اور سجدے سے منہ موڑ لیا۔ اس کے اس انکار اور تکبر کی وجہ سے وہ اللہ کے علم میں کافروں میں شمار ہو گیا، یعنی اس کا انجام کفر اور اللہ کی رحمت سے محرومی ٹھہرا۔

یہ واقعہ ہمیں ایک عظیم سبق سکھاتا ہے کہ تکبر وہ اخلاقی بیماری ہے جو انسان کو اللہ کی اطاعت سے روک دیتی ہے اور اسے ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیتی ہے۔ ابلیس کا زوال اسی تکبر کی وجہ سے ہوا۔ اگر انسان اپنے اندر تکبر پیدا کر لے، تو وہ بھی اللہ کے احکام کو ماننے سے انکار کر سکتا ہے، چاہے وہ ظاہری طور پر مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کو قرآن میں اس لیے بیان فرمایا تاکہ ہم اس سے عبرت حاصل کریں اور اپنے دلوں کو عاجزی اور انکساری سے بھریں۔ یاد رکھیں! اللہ کے نزدیک سب سے محبوب بندے وہ ہیں جو اپنے رب کے سامنے جھک جائیں، اپنے ماں باپ، بڑوں اور علم والوں کا احترام کریں، اور کبھی اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھیں۔ تکبر شیطان کی پہچان ہے، جبکہ عاجزی مومن کی علامت ہے۔ آئیے ہم سب اپنے دلوں سے تکبر کی اس بیماری کو نکالیں اور اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے بنیں، تاکہ ہم بھی ان مخلص بندوں میں شامل ہو سکیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کامیاب ہو گئے۔



📜 آیت 72-76 — ص

72فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ
جب اس کو درست کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا
73فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ
تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا
74إِلَّا إِبْلِيسَ اسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ
مگر شیطان اکڑ بیٹھا اور کافروں میں ہوگیا
75قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ۖ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ الْعَالِينَ
خدا نے) فرمایا کہ اے ابلیس جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اس کے آگے سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے منع کیا۔ کیا تو غرور میں آگیا یا اونچے درجے والوں میں تھا؟
76قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ ۖ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ
بولا کہ میں اس سے بہتر ہوں (کہ) تو نے مجھ کو کو آگ سے پیدا کیا اور اِسے مٹی سے بنایا
صقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
74آیت

ترجمہ — ص 74

سورہ ص آیت 74 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مگر شیطان اکڑ بیٹھا اور کافروں میں ہوگیا

سورہ آیت 74/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 72–76. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں