Wa man ahsanu deenam mimmman aslama wajhahoo lillaahi wa huwa muhsinunw wattaba`a Millata Ibraaheema haneefaa; wattakhazal laahu Ibraaheema khaleelaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا کو قبول کیا اور وہ نیکوکار بھی ہے۔ اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے جو یکسوں (مسلمان) تھے اور خدا نے ابراہیم کو اپنا دوست بنایا تھا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
دين چه كسى بهتر از دين كسى است كه به اخلاص روى به جانب خدا كرد و نيكوكار بود و از دين حنيف ابراهيم پيروى كرد؟ و خدا ابراهيم را به دوستى خود برگزيد.
اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا کو قبول کیا اور وہ نیکوکار بھی ہے۔ اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے جو یکسوں (مسلمان) تھے اور خدا نے ابراہیم کو اپنا دوست بنایا تھا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ: اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کے حوالے کر دیا، اپنی نیت اور عمل کو خالص اللہ کے لیے کر دیا۔
مُحْسِنٌ: نیک عمل کرنے والا، توحید پر قائم رہنے والا۔
مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین اور ان کی شریعت۔
حَنِيفًا: شرک اور باطل عقائد سے ہٹ کر توحید اور حق کی طرف مائل ہونے والا۔
خَلِيلًا: دوست، محبوب خاص، جس کی محبت میں کوئی خلل نہ ہو۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو سب سے بہترین دین کی راہ دکھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس شخص سے بہتر دین والا اور کوئی نہیں جو اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے حوالے کر دے، اپنے دل اور تمام اعضاء کو اللہ کی اطاعت میں لگا دے، اور اپنے عمل کو خالص اللہ کے لیے کرے۔ ساتھ ہی وہ محسن ہو، یعنی اپنے اعمال میں نیکی اور احسان کو اپنائے، اور اللہ کی توحید پر قائم رہے۔ ایسا شخص دینِ ابراہیمی کی پیروی کرتا ہے، جو تمام انبیاء کا دین ہے، اور وہ شرک اور باطل عقائد سے کنارہ کش ہو کر حق اور توحید کی طرف مائل ہوتا ہے۔
یہ وہی راستہ ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دکھایا، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا خلیل (خاص دوست) بنایا۔ خلت محبت کی اعلیٰ ترین منزل ہے، جس میں محبت کے ساتھ کوئی خلل نہیں ہوتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے خصوصی اعزاز ہے، اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ اپنے مخلص اور نیک بندوں سے محبت کرتا ہے اور انہیں بلند درجات عطا فرماتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دینِ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہے، اور یہی دینِ ابراہیمی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کو اللہ کے حوالے کر دیں، اپنے اعمال کو خالص اللہ کے لیے بنائیں، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح توحید پر قائم رہیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہم سے محبت فرمائے گا اور ہمیں اپنی خاص رحمت سے نوازے گا۔ یہ وہ راستہ ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
(نجات) نہ تو تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو شخص برے عمل کرے گا اسے اسی (طرح) کا بدلا دیا جائے گا اور وہ خدا کے سوا نہ کسی کو حمایتی پائے گا اور نہ مددگار
اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا کو قبول کیا اور وہ نیکوکار بھی ہے۔ اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے جو یکسوں (مسلمان) تھے اور خدا نے ابراہیم کو اپنا دوست بنایا تھا
(اے پیغمبر) لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا تم کو ان کے (ساتھ نکاح کرنے کے) معاملے میں اجازت دیتا ہے اور جو حکم اس کتاب میں پہلے دیا گیا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جن کو تم ان کا حق تو دیتے نہیں اور خواہش رکھتے ہو کہ ان کے ساتھ نکاح کرلو اور (نیز) بیچارے بیکس بچوں کے بارے میں۔ اور یہ (بھی حکم دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔ اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔