نساء · 160/176
ترجمہ تلفظ — نساء
فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ كَثِيرًا ۝١٦٠
Fabizulmin minal lazeena haadoo harramnaa `alaihim taiyibaatin uhillat lahum wa bisadihim `an sabeelil laahi kaseeraa
📖 اردو ترجمہ
تو ہم نے یہودیوں کے ظلموں کے سبب (بہت سی) پاکیزہ چیزیں جو ان کو حلال تھیں ان پر حرام کردیں اور اس سبب سے بھی کہ وہ اکثر خدا کے رستے سے (لوگوں کو) روکتے تھے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَبِظُلْمٍ: ان کے ظلم کی وجہ سے
  • هَادُوا: یہودی ہوئے
  • طَيّبَاتٍ: پاکیزہ اور حلال کھانے کی چیزیں
  • صَدِّهِمْ: ان کا روکنا
  • سَبِيلِ الله: اللہ کا راستہ (دین اسلام)

تفسیر:

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ یہودیوں کے ظلم اور ان کی سرکشی کی وجہ سے ہم نے ان پر وہ پاکیزہ غذائیں حرام کر دیں جو پہلے ان کے لیے حلال تھیں۔ یہ حرام کردہ چیزیں وہ تھیں جن کا تفصیلی ذکر سورہ انعام میں کیا گیا ہے، جیسے کہ ہر کھر والا جانور، اور گائے بکری کی چربی وغیرہ۔ یہ پابندیاں ان کے ظلم کا نتیجہ تھیں، کیونکہ انہوں نے اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کی، انبیاء کو جھٹلایا، حضرت مریم علیہا السلام پر بہتان تراشی کی، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا۔

مزید برآں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان یہودیوں کا ایک بڑا جرم یہ بھی تھا کہ وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے۔ وہ نہ صرف خود حق سے منہ موڑتے تھے بلکہ دوسروں کو بھی اسلام قبول کرنے سے روکتے تھے۔ یہ روکنے کا عمل ان کی عادت بن چکا تھا، چنانچہ وہ بڑی تعداد میں لوگوں کو راہِ حق سے بھٹکاتے رہے۔

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اس کی اطاعت کے ساتھ ملتی ہیں، اور جب بندے ظلم اور سرکشی کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے نعمتیں چھین لیتا ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو پہلے لوگوں پر بھی جاری ہوئی اور آج بھی جاری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے احکام کی پابندی کریں، حلال و حرام کا خیال رکھیں، اور دوسروں کو بھی نیکی کی دعوت دیں۔ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ حلال چیزیں ہمارے لیے آسان کرتا ہے، لیکن جب ہم نافرمانی کرتے ہیں تو اس کے نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔ آئیے ہم اللہ کے شکر گزار بندے بنیں اور اس کی نعمتوں کی قدر کریں، تاکہ اللہ ہم پر اپنی رحمتیں مزید نازل فرمائے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 158-162 — نساء

158بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا
بلکہ خدا نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور خدا غالب اور حکمت والا ہے
159وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا
اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔ اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے
160فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ كَثِيرًا
تو ہم نے یہودیوں کے ظلموں کے سبب (بہت سی) پاکیزہ چیزیں جو ان کو حلال تھیں ان پر حرام کردیں اور اس سبب سے بھی کہ وہ اکثر خدا کے رستے سے (لوگوں کو) روکتے تھے
161وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا
اور اس سبب سے بھی کہ باوجود منع کئے جانے کے سود لیتے تھے اور اس سبب سے بھی کہ لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے۔ اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لئے ہم نے درد دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے
162لَّٰكِنِ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ ۚ وَالْمُقِيمِينَ الصَّلَاةَ ۚ وَالْمُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالْمُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أُولَٰئِكَ سَنُؤْتِيهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا
مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں (سب پر) ایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور خدا اور روز آخرت کو مانتے ہیں۔ ان کو ہم عنقریب اجر عظیم دیں گے
نساءقرآن فہرست
176آیت
مدنیRevelation
160آیت

ترجمہ — نساء 160

سورہ نساء آیت 160 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو ہم نے یہودیوں کے ظلموں کے سبب (بہت سی)…

سورہ آیت 160/176 — نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نساء سنیں, نساء ترجمہ, نساء mp3, نساء pdf. آیت 158–162. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں