اور اسی نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ بنائے اور زمین میں برکت رکھی اور اس میں سب سامان معیشت مقرر کیا (سب) چار دن میں۔ (اور تمام) طلبگاروں کے لئے یکساں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
رَوَاسِيَ: پہاڑ، جو زمین کو جما کر رکھنے والے ہوں۔
أَقْوَاتَهَا: اس کی خوراک اور روزی، یعنی زمین والوں کی غذائی ضروریات۔
سَوَاءً لِّلسَّائِلِينَ: برابر اور مکمل، ان لوگوں کے لیے جو اس کے بارے میں سوال کریں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں زمین کی تخلیق کے دوسرے مرحلے کا ذکر فرمایا ہے۔ اس نے زمین میں اوپر سے پہاڑ رکھ دیے، جو اسے جما کر رکھتے ہیں تاکہ وہ اپنے باشندوں کے ساتھ نہ ڈگمگائے۔ یہ پہاڑ زمین کے لیے میخوں کی طرح ہیں، جو اسے استحکام دیتے ہیں۔ پھر اللہ نے زمین میں برکت رکھی، یعنی اسے خیر و برکت کا مرکز بنایا، جہاں سے انسانوں اور جانوروں کے لیے رزق کے وسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے زمین میں اس کے رہنے والوں کی روزی اور خوراک کا اندازہ مقرر کیا، جو ان کی ضروریات کے مطابق ہے۔ یہ سب کچھ چار دنوں میں مکمل ہوا، یعنی دو دن زمین کی تخلیق کے لیے اور دو دن پہاڑوں اور روزی کے انتظام کے لیے۔ یہ مدت کسی سوال کرنے والے کے لیے برابر اور مکمل ہے، تاکہ وہ اس کی حقیقت جان سکے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ کی قدرت اور رحمت کے وہ جلوے ہیں جو ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ ذرا سوچیں! وہ ذات جس نے زمین کو جھٹکوں سے بچانے کے لیے پہاڑ رکھے، اس نے ہماری روزی کا بھی مکمل انتظام کیا۔ ہماری خوراک، پانی، اور معاش کے تمام وسائل اس نے پہلے سے مقرر کر دیے۔ کیا یہ محبت اور شفقت کا تقاضا نہیں کہ ہم اس رب کے شکر گزار بندے بنیں؟ جب ہم اپنے سامنے پہاڑوں کو دیکھتے ہیں، تو یاد رکھیں کہ یہ اللہ کی قدرت کی نشانی ہیں، اور جب ہم اپنی روزی کے ذرائع دیکھتے ہیں، تو یہ اس کی رحمت کا ثبوت ہیں۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ ہر چیز کا اندازہ رکھتا ہے، اس لیے ہمیں اپنی زندگی میں بھی اعتدال اور توازن اپنانا چاہیے، اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے، کیونکہ وہی ہمارا رازق ہے۔ اس پر ایمان لانا اور اس کا شکر ادا کرنا ہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔
پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں
پھر دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اس (کے کام) کا حکم بھیجا اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے مزین کیا اور (شیطانوں سے) محفوظ رکھا۔ یہ زبردست (اور) خبردار کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔