اور تم جس بات میں اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ خدا کی طرف (سے ہوگا) یہی خدا میرا پروردگار ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
اخْتَلَفْتُمْ: تم نے اختلاف کیا، باہم جھگڑا کیا۔
فَحُكْمُهُ: تو اس کا فیصلہ۔
أُنِيبُ: میں رجوع کرتا ہوں، لوٹتا ہوں۔
تفسیر:
اے لوگو! تم جس کسی بھی معاملے میں اختلاف کرو، چاہے وہ دین کے اصولوں سے متعلق ہو یا فروعی مسائل سے، چاہے وہ عقیدے کا مسئلہ ہو یا عمل کا، تو اس کا فیصلہ اللہ کے حوالے ہے۔ یعنی اس اختلاف کا حل اور فیصلہ اللہ کی کتاب (قرآن) اور اس کے رسول ﷺ کی سنت سے لیا جائے گا۔ یہی وہ معیار ہے جو تمہارے جھگڑوں کو ختم کر سکتا ہے۔
یاد رکھو! یہ اللہ ہی ہے جس کی ذات میں تمام صفاتِ کمال موجود ہیں، وہی تمہارا رب ہے اور میرا بھی رب ہے۔ میں نے اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کیا ہے، کیونکہ وہی سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ میں اپنے ہر کام میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں، اسی کی طرف لوٹتا ہوں، اور اپنی تمام حاجات اسی سے مانگتا ہوں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک عظیم سبق سکھاتی ہے کہ جب بھی ہم کسی مسئلے میں الجھیں، کسی بات پر اختلاف ہو، تو ہمیں فوراً اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ قرآن اور سنت ہی وہ روشن چراغ ہیں جو ہمیں اندھیروں سے نکال کر سیدھے راستے پر لاتے ہیں۔ جب ہم اپنے معاملات اللہ کے حوالے کر دیتے ہیں تو ہمارے دل کو سکون ملتا ہے، کیونکہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ اللہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ اپنے رب پر بھروسہ کریں، اسی کی طرف رجوع کریں، اور اپنے اختلافات کو ختم کرنے کے لیے اس کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کو اپنا فیصلہ بنائیں۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے، یہی سکون اور اطمینان کا ذریعہ ہے۔
آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (وہی ہے) ۔ اسی نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کے جوڑے بنائے اور چارپایوں کے بھی جوڑے (بنائے اور) اسی طریق پر تم کو پھیلاتا رہتا ہے۔ اس جیسی کوئی چیز نہیں۔ اور وہ دیکھتا سنتا ہے
آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے۔ بےشک وہ ہر چیز سے واقف ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔