زخرف · 65/89
ترجمہ تلفظ — زخرف
فَاخْتَلَفَ الْأَحْزَابُ مِن بَيْنِهِمْ ۖ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ أَلِيمٍ ۝٦٥
Fakhtalafal ahzaabu mim bainihim fawailul lillazeena zalamoo min `azaabi Yawmin aleem
📖 اردو ترجمہ
پھر کتنے فرقے ان میں سے پھٹ گئے۔ سو جو لوگ ظالم ہیں ان کی درد دینے والے دن کے عذاب سے خرابی ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الْأَحْزَابُ: گروہ، فرقے، جماعتیں۔
  • فَوَيْلٌ: ہلاکت، تباہی، خرابی۔
  • يَوْمٍ أَلِيمٍ: دردناک عذاب والا دن، یعنی قیامت کا دن۔

تفسیرِ آیہ:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملے میں اہلِ کتاب کے اختلاف کا ذکر فرمایا ہے۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام مبعوث ہوئے تو بنی اسرائیل کے مختلف گروہ ان کے بارے میں متفرق ہو گئے۔ کچھ نے انہیں اللہ کا بندہ اور رسول مانا، جو کہ حق تھا، لیکن اکثر لوگوں نے غلو کیا اور انہیں اللہ کا بیٹا کہہ دیا، بعض نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ خود اللہ ہیں، اور کچھ نے کہا کہ وہ اور ان کی والدہ مریم علیہا السلام دو معبود ہیں، اور کچھ نے تثلیث (تین خداؤں) کا عقیدہ ایجاد کر لیا۔ یہ سب باطل عقائد تھے جو انہوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیے تھے، اور یہ اختلاف باہمی خود انہی کے درمیان پیدا ہوا، کسی بیرونی طاقت نے ان پر یہ عقائد مسلط نہیں کیے تھے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان ظالموں کے لیے سخت وعید سنائی ہے کہ ان کے لیے ہلاکت اور تباہی ہے، اور قیامت کے دن انہیں دردناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ عذاب ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں غلو کیا، انہیں اللہ کا شریک ٹھہرایا، یا ان کی الوہیت کا دعویٰ کیا، حالانکہ وہ اللہ کے برگزیدہ نبی اور رسول تھے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دین میں غلو اور حد سے تجاوز کرنا انتہائی خطرناک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو صرف بشر (انسان) بنا کر بھیجا، انہیں عبادت کا مقام نہیں دیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہر نبی اور رسول کو ان کے اصل مقام پر رکھیں، نہ انہیں کم تر سمجھیں اور نہ ہی انہیں خدا کا درجہ دیں۔ یہی توحید کا راستہ ہے جو اللہ کو پسند ہے۔ آج بھی بہت سے لوگ اپنے بزرگوں، پیروں اور اولیاء کے بارے میں غلو کرتے ہیں، انہیں اللہ کی صفات سے متصف کرتے ہیں، حالانکہ یہ شرک ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم خالص توحید پر قائم رہیں، صرف اللہ کی عبادت کریں، اور اس کے رسولوں اور نیک بندوں کو صرف محبت اور احترام کی نگاہ سے دیکھیں، نہ کہ عبادت کے مقام پر رکھیں۔ یاد رکھیں، قیامت کا دن یقینی ہے، اور اس دن ہر ظالم کو اپنے ظلم کا پھل ملے گا۔ اللہ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔



📜 آیت 63-67 — زخرف

63وَلَمَّا جَاءَ عِيسَىٰ بِالْبَيِّنَاتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُم بِالْحِكْمَةِ وَلِأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
اور جب عیسیٰ نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ میں تمہارے پاس دانائی (کی کتاب) لے کر آیا ہوں۔ نیز اس لئے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو تم کو سمجھا دوں۔ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو
64إِنَّ اللَّهَ هُوَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۚ هَٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ
کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے پس اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے
65فَاخْتَلَفَ الْأَحْزَابُ مِن بَيْنِهِمْ ۖ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ أَلِيمٍ
پھر کتنے فرقے ان میں سے پھٹ گئے۔ سو جو لوگ ظالم ہیں ان کی درد دینے والے دن کے عذاب سے خرابی ہے
66هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
یہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قیامت ان پر ناگہاں آموجود ہو اور ان کو خبر تک نہ ہو
67الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ
(جو آپس میں) دوست (ہیں) اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ مگر پرہیزگار (کہ باہم دوست ہی رہیں گے)
زخرفقرآن فہرست
89آیت
مکیRevelation
65آیت

ترجمہ — زخرف 65

سورہ زخرف آیت 65 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر کتنے فرقے ان میں سے پھٹ گئے۔ سو جو…

سورہ آیت 65/89 — زخرف الزخرف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: زخرف سنیں, زخرف ترجمہ, زخرف mp3, زخرف pdf. آیت 63–67. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں