بھلا ان کے مشائخ اور علماء انہیں گناہ کی باتوں اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کرتے؟ بلاشبہ وہ بھی برا کرتے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الرَّبَّانِیُّونَ: مراد اہل علم و ایمان والے بزرگ، جو لوگوں کی تربیت کریں۔
الْأَحْبَارُ: علماء یہود، دین کے جاننے والے۔
الْإِثْم: جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، شہادت زور دینا۔
السُّحْتَ: حرام کمائی، رشوت، اور لوگوں کا مال ناحق کھانا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر سخت تنقید فرماتا ہے جو برائیوں میں مبتلا ہیں اور ان کے علماء اور بزرگ خاموش ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے ربانی اور علماء انہیں جھوٹ بولنے، غیبت کرنے، شہادت زور دینے اور حرام کھانے سے کیوں نہیں روکتے؟ یہ علماء اور بزرگ اگر اپنی ذمہ داری ادا کرتے تو لوگ ان برائیوں سے باز آ جاتے۔ لیکن جب علماء خاموش رہتے ہیں اور لوگوں کو نہیں روکتے، تو یہ بہت برا فعل ہے۔
یہ آیت ان علماء کے لیے سخت وعید ہے جو حق بات نہیں کہتے اور برائیوں کو دیکھ کر خاموش رہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے تم میں سے کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر نہ کر سکے تو زبان سے، اور اگر یہ بھی نہ کر سکے تو دل سے (اسے برا جانے) اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔" (مسلم)
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہر مسلمان، خاص طور پر علماء اور ذمہ داران، پر فرض ہے کہ وہ برائیوں کو روکیں اور نیکی کا حکم دیں۔ اگر ہم خاموش رہیں گے تو اللہ کی ناراضگی کا اندیشہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گھر، محلے اور معاشرے میں برائیوں کو روکنے کی کوشش کریں، نرمی اور حکمت سے، تاکہ اللہ کی رحمت ہم پر نازل ہو۔ یاد رکھیں، جب معاشرے میں برائیاں عام ہو جائیں اور لوگ روکنے والے نہ ہوں، تو اللہ کا عذاب آتا ہے۔ آئیے ہم سب مل کر اپنے معاشرے کو پاکیزہ بنائیں اور اپنے علماء سے بھی توقع رکھیں کہ وہ حق بات کہیں اور برائیوں سے روکیں۔
اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے حالانکہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لیکر جاتے ہیں اور جن باتوں کو یہ مخفی رکھتے ہیں خدا ان کو خوب جانتا ہے
اور یہود کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ (گردن سے) بندھا ہوا ہے (یعنی الله بخیل ہے) انہیں کے ہاتھ باندھے جائیں اور ایسا کہنے کے سبب ان پر لعنت ہو (اس کا ہاتھ بندھا ہوا نہیں) بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں وہ جس طرح (اور جتنا) چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور (اے محمد) یہ (کتاب) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی اس سے ان میں سے اکثر کی شرارت اور انکار اور بڑھے گا اور ہم نے ان کے باہم عداوت اور بغض قیامت تک کے لیے ڈال دیا ہے یہ جب لڑائی کے لیے آگ جلاتے ہیں خدا اس کو بجھا دیتا ہے اور یہ ملک میں فساد کے لیے دوڑے پھرتے ہیں اور خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔