اور تم دیکھو گے کہ ان میں اکثر گناہ اور زیادتی اور حرام کھانے میں جلدی کر رہے ہیں بےشک یہ جو کچھ کرتے ہیں برا کرتے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یُسَارِعُونَ: جلدی کرتے ہیں، دوڑتے ہیں۔
الْإِثْمِ: گناہ، معصیت، شرک۔
الْعُدْوَانِ: ظلم، زیادتی، حد سے تجاوز۔
السُّحْتَ: حرام کمائی، رشوت، وہ مال جو ناجائز طریقے سے حاصل کیا جائے۔
تفسیر:
اے نبی! آپ دیکھتے ہیں کہ ان یہودیوں اور منافقوں میں سے بہت سے لوگ گناہوں کی طرف دوڑتے ہیں، جیسے جھوٹ بولنا، شرک کرنا، اور اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرنا۔ وہ ظلم اور زیادتی میں بھی جلدی کرتے ہیں، یعنی لوگوں پر ناحق ظلم کرتے ہیں اور ان کے حقوق غصب کرتے ہیں۔ اور ساتھ ہی وہ حرام مال کھاتے ہیں، جیسے رشوت، سود، اور لوگوں کا مال ناحق طریقے سے ہڑپ کرنا۔ یہ سب کچھ وہ کھلے عام اور بے باکی سے کرتے ہیں، گویا انہیں کوئی ڈر یا شرم نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں، وہ کتنا برا کام ہے! ان کا یہ طرزِ عمل انتہائی قابلِ مذمت ہے، کیونکہ وہ نہ صرف خود گناہوں میں مبتلا ہیں بلکہ دوسروں کو بھی ظلم اور حرام خوری کی دعوت دیتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ مسلمان کو ہمیشہ نیکی میں جلدی کرنی چاہیے، گناہوں سے بچنا چاہیے، اور حلال روزی کمانا چاہیے۔ حرام مال اور رشوت خوری معاشرے کو تباہ کر دیتی ہے اور اللہ کی ناراضگی کا سبب بنتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی کمائی میں پاکیزگی اختیار کریں، کیونکہ جو شخص حرام کھاتا ہے، اس کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں اور اس کا جسم جہنم کی غذا بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حلال اور طیب روزی کمانے کا حکم دیا ہے تاکہ ہماری عبادتیں اور دعائیں مقبول ہوں۔ آئیے ہم اپنے معاملات کو درست کریں، ظلم سے بچیں، اور اپنی زندگیوں کو اللہ کے احکام کے مطابق ڈھالیں تاکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوں۔
کہو کہ میں تمہیں بتاؤں کہ خدا کے ہاں اس سے بھی بدتر جزا پانے والے کون ہیں؟ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور جن پر وہ غضبناک ہوا اور (جن کو) ان میں سے بندر اور سور بنا دیا اور جنہوں نے شیطان کی پرستش کی ایسے لوگوں کا برا ٹھکانہ ہے اور وہ سیدھے رستے سے بہت دور ہیں
اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے حالانکہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لیکر جاتے ہیں اور جن باتوں کو یہ مخفی رکھتے ہیں خدا ان کو خوب جانتا ہے
اور یہود کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ (گردن سے) بندھا ہوا ہے (یعنی الله بخیل ہے) انہیں کے ہاتھ باندھے جائیں اور ایسا کہنے کے سبب ان پر لعنت ہو (اس کا ہاتھ بندھا ہوا نہیں) بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں وہ جس طرح (اور جتنا) چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور (اے محمد) یہ (کتاب) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی اس سے ان میں سے اکثر کی شرارت اور انکار اور بڑھے گا اور ہم نے ان کے باہم عداوت اور بغض قیامت تک کے لیے ڈال دیا ہے یہ جب لڑائی کے لیے آگ جلاتے ہیں خدا اس کو بجھا دیتا ہے اور یہ ملک میں فساد کے لیے دوڑے پھرتے ہیں اور خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔