اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو ہم ان سے ان کے گناہ محو کر دیتے اور ان کو نعمت کے باغوں میں داخل کرتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
آمَنُوا: ایمان لائیں، تصدیق کریں۔
وَاتَّقَوْا: پرہیزگاری اختیار کریں، گناہوں سے بچیں۔
لَكَفَّرْنَا: ہم معاف فرما دیں، ڈھانپ دیں۔
سَيِّئَاتِهِمْ: ان کے گناہ، برائیاں۔
جَنَّاتِ النَّعِيمِ: نعمتوں والی جنتیں، دائمی راحت والی جنت۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کو ایک عظیم پیغام دے رہے ہیں کہ اگر وہ سچے دل سے ایمان لے آئیں — یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اس پیغام پر جو آپ لائے ہیں — اور تقویٰ اختیار کریں، یعنی اللہ کے احکام کی پیروی کریں اور اس کے منع کردہ کاموں سے بچیں، تو اللہ تعالیٰ ان کی تمام پچھلی غلطیوں اور گناہوں کو معاف فرما دے گا۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ ایمان لانے کے بعد پچھلے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں، چاہے وہ کتنے ہی بڑے اور زیادہ کیوں نہ ہوں۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو ہم جنتوں میں داخل کریں گے جو ہر قسم کی نعمتوں سے بھری ہوئی ہیں — وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، انہیں کوئی تکلیف، کوئی خوف اور کوئی غم نہ ہوگا۔ یہ وہ انعام ہے جو ایمان اور تقویٰ کی برکت سے ملتا ہے۔
اس آیت میں ایک اہم حقیقت بیان کی گئی ہے کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے کے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں، اور جنت میں داخلے کا واحد راستہ ایمانِ محمدی اور تقویٰ ہے۔ کوئی بھی شخص — چاہے وہ اہل کتاب ہی کیوں نہ ہو — بغیر اسلام لائے جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت اللہ کی رحمت کا ایک حسین مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے مایوس نہ ہوں، کیونکہ ایمان اور تقویٰ کی بدولت اللہ کی رحمت تمام گناہوں کو دھو ڈالتی ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس رحمتِ الٰہی سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، اپنے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کریں، اور تقویٰ کو اپنا شعار بنائیں تاکہ ہم بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہو سکیں جن کے لیے جنت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ایمان کی حلاوت کو محسوس کریں اور تقویٰ کی راہ پر چلیں۔ آمین۔
اور یہود کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ (گردن سے) بندھا ہوا ہے (یعنی الله بخیل ہے) انہیں کے ہاتھ باندھے جائیں اور ایسا کہنے کے سبب ان پر لعنت ہو (اس کا ہاتھ بندھا ہوا نہیں) بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں وہ جس طرح (اور جتنا) چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور (اے محمد) یہ (کتاب) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی اس سے ان میں سے اکثر کی شرارت اور انکار اور بڑھے گا اور ہم نے ان کے باہم عداوت اور بغض قیامت تک کے لیے ڈال دیا ہے یہ جب لڑائی کے لیے آگ جلاتے ہیں خدا اس کو بجھا دیتا ہے اور یہ ملک میں فساد کے لیے دوڑے پھرتے ہیں اور خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھتے (تو ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ) اپنے اوپر سے پاؤں کے نیچے سے کھاتے ان میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں
اے پیغمبر جو ارشادات خدا کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہنچا دو اور اگر ایسا نہ کیا تو تم خدا کے پیغام پہنچانے میں قاصر رہے (یعنی پیغمبری کا فرض ادا نہ کیا) اور خدا تم کو لوگوں سے بچائے رکھے گا بیشک خدا منکروں کو ہدایت نہیں دیتا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔