Innamaa yureedush Shaitaanu ai yooqi`a bainakumul `adaawata wal baghdaaa`a fil khamri wal maisiri wa yasuddakum `an zikril laahi wa `anis Salaati fahal antum muntahoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہیئے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
شيطان مىخواهد با شراب و قمار ميان شما كينه و دشمنى افكند و شما را از ياد خدا و نماز باز دارد، آيا بس مىكنيد؟
شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہیئے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الْخَمْرِ: ہر وہ چیز جو عقل کو زائل کر دے، خواہ وہ انگور سے بنی ہو یا کسی اور چیز سے۔
الْمَيْسِرِ: جوا، قمار، یعنی وہ کھیل جس میں شرط لگائی جائے اور مال حاصل کرنے یا کھونے کا اندیشہ ہو۔
الْبَغْضَاءَ: شدید نفرت اور کینہ۔
يَصُدَّكُمْ: روکے اور باز رکھے۔
مُنتَهُونَ: باز آنے والے، ترک کرنے والے۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو شراب اور جوئے جیسی عظیم برائیوں سے خبردار فرما رہے ہیں اور ان کے نقصانات کو واضح کر رہے ہیں۔ شیطان کا اصل مقصد اور منصوبہ یہ ہے کہ وہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کرے۔ شراب پینے سے عقل زائل ہو جاتی ہے، انسان اپنے قابو میں نہیں رہتا، اور معمولی سی بات پر جھگڑے اور لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح جوا کھیلنے سے ایک فریق جیتتا ہے تو دوسرا ہارتا ہے، ہارنے والے کے دل میں جیتنے والے کے خلاف کینہ اور حسد پیدا ہوتا ہے، اور یوں معاشرے میں عداوت اور بغض پھیلتا ہے۔
یہ بھی شیطان کا ہدف ہے کہ وہ تمہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے غافل کر دے۔ شراب پینے والا نشے کی حالت میں نہ تو اللہ کو یاد کر سکتا ہے اور نہ ہی نماز ادا کر سکتا ہے۔ جوا کھیلنے والا بھی اس کھیل میں اس قدر مشغول ہو جاتا ہے کہ اسے نماز کا وقت بھی یاد نہیں رہتا۔ یہ دونوں کام انسان کو اللہ سے دور کر دیتے ہیں اور اس کی آخرت کو تباہ کر دیتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے محبت اور شفقت کے ساتھ سوال کرتا ہے: "کیا تم باز آؤ گے؟" یہ سوال دراصل ایک حکم ہے، یعنی تمہیں ان برائیوں سے ضرور باز آ جانا چاہیے۔ یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو ان چیزوں کے نقصانات سے آگاہ کیا اور انہیں ان سے بچنے کا راستہ دکھایا۔
دعوتی انداز:
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا سوچیں، کیا کوئی عقلمند انسان اپنی عقل کو ختم کرنے والی چیز کو پسند کر سکتا ہے؟ کیا کوئی شخص اپنے پیسوں اور وقت کو ایسے کھیل میں ضائع کرنا چاہے گا جو اس کے دل میں نفرت اور کینہ پیدا کرے؟ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل دی ہے تاکہ ہم اسے استعمال کریں، اور نماز دی ہے تاکہ ہم اس کے ذریعے اللہ سے جڑیں۔ یہ دونوں نعمتیں ہمارے لیے باعثِ برکت ہیں۔ شیطان چاہتا ہے کہ ہم ان نعمتوں سے محروم رہیں، لیکن ہمیں اس کے دھوکے سے بچنا ہے۔ آئیے ہم اللہ کے حکم کو قبول کریں، ان برائیوں کو چھوڑ دیں، اور اپنی زندگیوں کو پاکیزہ بنائیں۔ اللہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہماری بھلائی چاہتا ہے، اس لیے وہ ہمیں ان چیزوں سے روکتا ہے۔ جو شخص ان برائیوں سے بچ جائے، وہ دنیا میں سکون اور آخرت میں کامیابی پائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے، آمین۔
خدا تمہاری بےارادہ قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن پختہ قسموں پر (جن کے خلاف کرو گے) مواخذہ کرے گا تو اس کا کفارہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل وعیال کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور جس کو میسر نہ ہو وہ تین روزے رکھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھا لو (اور اسے توڑ دو) اور (تم کو) چاہئے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو اس طرح خدا تمہارے (سمجھانے کے) لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو
شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہیئے
اور خدا کی فرمانبرداری اور رسولِ (خدا) کی اطاعت کرتے رہو اور ڈرتے رہو اگر منہ پھیرو گے تو جان رکھو کہ ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے
جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان پر ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں جو وہ کھا چکے جب کہ انہوں نے پرہیز کیا اور ایمان لائے اور نیک کام کیے پھر پرہیز کیا اور ایمان لائے پھر پرہیز کیا اور نیکو کاری کی اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔