ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الْبَرُّ: بڑا محسن، احسان کرنے والا، سچا وعدہ کرنے والا۔
- الرَّحِيمُ: بے حد رحم فرمانے والا، نہایت مہربان۔
تفسیر:
اہل جنت جب جنت کی نعمتوں میں داخل ہوں گے اور ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ یہ عظیم انعام ہمیں کیسے ملا؟ تو وہ اس کا جواب دیں گے کہ ہم اس لیے اس مقام تک پہنچے کہ ہم پہلے (دنیا میں) اپنے گھر والوں کے درمیان رہتے ہوئے اپنے رب سے ڈرتے تھے، اس کے عذاب سے خوفزدہ رہتے تھے، اور ہم اسی سے دعائیں مانگتے تھے، اسی کو پکارتے تھے، اسی کی عبادت کرتے تھے اور اس سے جہنم کی آگ سے بچانے کی التجا کرتے تھے۔ ہم نے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا، نہ اس کی عبادت میں کسی کو شامل کیا۔ ہم اسی سے امید رکھتے تھے کہ وہ ہمیں جہنم کے عذاب سے بچائے اور جنت کی نعمتوں تک پہنچائے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری دعا قبول فرمائی، ہماری درخواست پوری کی، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا، ہمیں ایمان کی توفیق دی، ہمیں جنت میں داخل کیا اور جہنم کی آگ سے محفوظ رکھا۔ بیشک وہی بڑا محسن ہے، اپنے بندوں پر احسان کرنے والا ہے، اپنے وعدے میں سچا ہے، اور بے حد رحم فرمانے والا ہے۔ اس کا احسان اور رحمت ہی ہے جس کی بدولت ہم آج اس مقام پر فائز ہیں۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا اور عبادت کا تعلق صرف مصیبت کے وقت نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہر وقت اسی کو پکارنا چاہیے، اسی سے ڈرنا چاہیے اور اسی سے امید رکھنی چاہیے۔ جو شخص دنیا میں اللہ کو پکارتا ہے، اللہ اس کی پکار سنتا ہے اور اسے جنت کی نعمتوں سے نوازتا ہے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے، وہ اپنے بندوں پر احسان کرنے والا اور ان پر رحم فرمانے والا ہے۔ آئیے ہم بھی اپنی زندگیوں کو اللہ کی عبادت اور دعا سے روشن کریں، تاکہ ہم بھی اس عظیم انعام کے مستحق بنیں۔
📜 آیت 26-30 — طور
ترجمہ — طور 28
سورہ طور آیت 28 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے۔…سورہ آیت 28/49 — طور الطور (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طور سنیں, طور ترجمہ, طور mp3, طور pdf. آیت 26–30. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








