ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- ضلال: گمراہی، راہِ راست سے بھٹک جانا
- سُعُر: جنون، دیوانگی (بعض مفسرین کے نزدیک اس کا مطلب جہنم کی آگ بھی ہے)
تفسیر:
قومِ ثمود نے اپنے نبی حضرت صالح علیہ السلام کی دعوت کو ٹھکرانے کے بعد جو رویہ اختیار کیا، اس کا ذکر اس آیت میں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے نہ صرف دعوتِ حق کو رد کیا بلکہ اسے مضحکہ خیز بھی بنایا۔ ان کا کہنا تھا: "کیا ہم ایک ایسے انسان کی پیروی کریں جو ہم میں سے ہی ہے اور بالکل اکیلا ہے؟" ان کی یہ بات دراصل استکبار اور غرور کا نتیجہ تھی۔ انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ حق کا معیار کثرتِ تعداد نہیں بلکہ صداقت اور اللہ کی طرف سے ہونا ہے۔ وہ یہ کہہ رہے تھے کہ اگر ہم نے اس کی پیروی کی تو ہم یقیناً گمراہی اور جنون میں مبتلا ہو جائیں گے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی — وہ خود گمراہی اور جنون میں مبتلا تھے، کیونکہ انہوں نے اللہ کے رسول کو جھٹلایا اور معجزہ دیکھنے کے باوجود ایمان نہ لائے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ حق کو قبول کرنے میں تعداد اور ظاہری شان و شوکت کو معیار نہیں بنانا چاہیے۔ اللہ کے دین کی سچائی اس کی دلیل اور برکت سے ظاہر ہوتی ہے، نہ کہ ماننے والوں کی کثرت سے۔ آج بھی بہت سے لوگ اسلام کی طرف راغب ہونے میں یہی عذر پیش کرتے ہیں کہ "ہمارے بڑوں نے ایسا نہیں کیا" یا "ہم اکیلے کیسے چلیں گے"۔ لیکن یاد رکھیں! حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی میں سوار ہونے والے چند ہی تھے، مگر وہی نجات پانے والے تھے۔ حق کے راستے پر چلنے میں تنہائی کا خوف نہ کریں، کیونکہ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ ہوتا ہے جو اس کی طرف خلوص سے رجوع کرتے ہیں۔ اور جب آپ حق پر ہوں گے تو اللہ آپ کو ایسے ساتھی عطا فرمائے گا جو آپ کا ہاتھ تھامیں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔
📜 آیت 22-26 — قمر
ترجمہ — قمر 24
سورہ قمر آیت 24 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کہا کہ بھلا ایک آدمی جو ہم ہی میں…سورہ آیت 24/55 — قمر القمر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قمر سنیں, قمر ترجمہ, قمر mp3, قمر pdf. آیت 22–26. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








