ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- آلِ فِرْعَوْنَ: فرعون کی قوم، اس کے ساتھی اور اتباع۔
- النُّذُرُ: ڈرانے والے، تنبیہ کرنے والے، یعنی وہ انبیاء اور پیغامات جو عذاب سے پہلے بھیجے گئے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے اور اہل مکہ کو ڈراتے ہوئے فرماتے ہیں کہ فرعون کی قوم کے پاس بھی ڈرانے والے آئے تھے۔ یہ نذیر دو عظیم پیغمبر تھے — حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام — جنہیں اللہ نے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تاکہ وہ انہیں شرک اور ظلم سے باز رکھیں اور عذاب الٰہی سے ڈرائیں۔
یہ پیغام صرف زبانی نہیں تھا، بلکہ اللہ نے ان پیغمبروں کو معجزات سے نوازا تھا تاکہ وہ فرعون کی قوم کے سامنے اپنی صداقت ثابت کر سکیں۔ مگر فرعون اور اس کے ساتھیوں نے ان نذیروں کو جھٹلایا، ان کی دعوت کو رد کیا اور تکبر کا راستہ اپنایا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی کسی قوم پر عذاب نہیں بھیجتا جب تک کہ وہ پہلے ان کے پاس نذیر (ڈرانے والے) نہ بھیج دے۔ یہ اللہ کی رحمت اور عدل کا تقاضا ہے۔ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح ہمارے پاس نذیر بن کر آئے، اور قرآن ہمارے لیے روشن پیغام ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان نذیروں کی بات مان کر اپنی زندگیاں سنواریں، کیونکہ جو قومیں اپنے نبیوں کو جھٹلاتی ہیں، ان کا انجام عبرتناک ہوتا ہے۔ آج بھی ہمارے پاس قرآن اور سنت کی صورت میں نصیحتیں موجود ہیں، انہیں قبول کرنا ہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔
📜 آیت 39-43 — قمر
ترجمہ — قمر 41
سورہ آیت 41/55 — قمر القمر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قمر سنیں, قمر ترجمہ, قمر mp3, قمر pdf. آیت 39–43. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








