ان کا حال ان لوگوں کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ اور (ابھی) ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
کَمَثَلِ: مثال کی مانند، مشابہت کے طور پر۔
وَبَالَ: سخت انجام، برے نتائج، وبال۔
أَلِيمٌ: دردناک، تکلیف دہ۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان یہودیوں (بنی نضیر) کی مثال بیان فرمائی ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عہد شکنی کی اور اپنے کفر و عناد کی وجہ سے دنیا میں ذلت اور عذاب کا سامنا کیا۔ ان کی حالت بالکل ان لوگوں جیسی ہے جو ان سے کچھ ہی عرصہ پہلے گزر چکے تھے، یعنی مشرکینِ مکہ (کفارِ قریش) جو جنگِ بدر میں مارے گئے یا قید ہوئے، اور بنو قینقاع کے یہودی بھی۔ ان سب نے اپنے کفر اور رسول اللہ ﷺ کی دشمنی کا وبال (برا انجام) دنیا میں چکھ لیا۔ کچھ قتل ہوئے، کچھ قید ہوئے، کچھ جلاوطن ہوئے، اور ان کے لیے آخرت میں مزید دردناک عذاب ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا۔
یہ آیت مسلمانوں کے لیے ایک عبرت اور نصیحت ہے کہ اللہ کی نافرمانی اور اس کے رسول کی مخالفت کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ جو لوگ حق کو رد کرتے ہیں اور باطل پر ڈٹے رہتے ہیں، وہ دنیا میں بھی رسوا ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی سخت عذاب کا شکار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بار بار تنبیہ کرتا ہے تاکہ وہ راہِ راست پر آجائیں اور اپنے انجام سے پہلے توبہ کر لیں۔
یہاں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ کے احکامات کی پابندی کرنی چاہیے، رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرنی چاہیے، اور کسی بھی قسم کی دشمنی یا عہد شکنی سے بچنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ کی گرفت بہت سخت ہے، اور وہ ظالموں کو کبھی معاف نہیں کرتا جب تک وہ توبہ نہ کریں۔ اللہ ہمیں قرآن کی سمجھ عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہیں۔ آمین۔
یہ سب جمع ہو کر بھی تم سے (بالمواجہہ) نہیں لڑ سکیں گے مگر بستیوں کے قلعوں میں (پناہ لے کر) یا دیواروں کی اوٹ میں (مستور ہو کر) ان کا آپس میں بڑا رعب ہے۔ تم شاید خیال کرتے ہو کہ یہ اکھٹے (اور ایک جان) ہیں مگر ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں یہ اس لئے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں
منافقوں کی) مثال شیطان کی سی ہے کہ انسان سے کہتا رہا کہ کافر ہوجا۔ جب وہ کافر ہوگیا تو کہنے لگا کہ مجھے تجھ سے کچھ سروکار نہیں۔ مجھ کو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔