تو دونوں کا انجام یہ ہوا کہ دونوں دوزخ میں (داخل ہوئے) ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اور بےانصافوں کی یہی سزا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
عاقبتہما: دونوں کا انجام اور نتیجہ
خالدین: ہمیشہ رہنے والے
جزاء: بدلہ، سزا
ظالمین: ظلم کرنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شیطان اور اس انسان کا انجام بیان فرمایا ہے جس نے شیطان کی اطاعت کی اور کفر و گمراہی کا راستہ اختیار کیا۔ دونوں کا انجام یہ ہوا کہ وہ دونوں جہنم کی آگ میں داخل ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ یہ عذاب ان سے کبھی ختم نہ ہوگا اور نہ ہی انہیں اس سے نجات ملے گی۔
یہ سزا ان لوگوں کا بدلہ ہے جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں، اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں اور حق کے مقابلے میں باطل کو اختیار کرتے ہیں۔ شیطان نے اپنے پیروکاروں کو جو وعدے کیے تھے، وہ سب جھوٹے ثابت ہوں گے، اور دونوں ایک ہی انجام سے دوچار ہوں گے۔
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ شیطان ہمارا کھلا دشمن ہے اور وہ ہمیں گمراہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس کے وسوسوں سے بچیں، اللہ کی اطاعت کریں اور اس کے احکامات پر عمل کریں۔ یاد رکھیں! شیطان کا انجام جہنم ہے، اور جو اس کی پیروی کرے گا، اس کا انجام بھی وہی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شیطان کے شر سے محفوظ رکھے اور ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
منافقوں کی) مثال شیطان کی سی ہے کہ انسان سے کہتا رہا کہ کافر ہوجا۔ جب وہ کافر ہوگیا تو کہنے لگا کہ مجھے تجھ سے کچھ سروکار نہیں۔ مجھ کو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے
اے ایمان والوں! خدا سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیئے کہ اس نے کل (یعنی فردائے قیامت) کے لئے کیا (سامان) بھیجا ہے اور (ہم پھر کہتے ہیں کہ) خدا سے ڈرتے رہو بےشک خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔