انعام · 112/165
ترجمہ تلفظ — انعام
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا ۚ وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ ۝١١٢
Wa kazaalika ja`alnaa likulli nabiyyin `aduwwan Shayaateenal insi waljinni yoohee ba`duhum ilaa ba`din zukhrufal qawli ghurooraa; wa law shaaa`a Rabbuka maa fa`aloohu fazarhum wa maa yaftaroon
📖 اردو ترجمہ
اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا تھا وہ دھوکا دینے کے لیے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ یہ افتراء کرتے ہیں اسے چھوڑ دو
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • شیاطین الإنس والجن: انسانوں اور جنوں میں سے شیطان صفت لوگ (سرکش اور بدکار افراد)
  • یوحی: وسوسہ ڈالتے ہیں، چپکے سے پہنچاتے ہیں
  • زخرف القول: ظاہری طور پر خوشنما اور آراستہ بات (جس میں حقیقت نہ ہو)
  • غروراً: دھوکہ دینے کے لیے
  • یفترون: جھوٹ گھڑتے ہیں، بہتان باندھتے ہیں

تفسیر:

اے محبوب نبی! جس طرح آپ کو اپنی قوم کے مشرکوں کی عداوت کا سامنا ہے، اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے گزرے ہوئے ہر نبی کے لیے دشمن بنائے تھے۔ یہ دشمن انسانوں میں سے بھی تھے اور جنوں میں سے بھی، خاص طور پر وہ جو سرکش اور بدکار تھے۔ ان شیطان صفت انسانوں اور جنوں کا آپس میں گہرا رابطہ تھا، وہ ایک دوسرے کو وسوسے ڈالتے تھے اور ایک دوسرے تک اپنی خوشنما باتیں پہنچاتے تھے۔

ان کی یہ باتیں ظاہری طور پر بہت خوبصورت اور دلکش ہوتی تھیں، لیکن حقیقت میں وہ بالکل خالی اور بے حقیقت ہوتی تھیں۔ ان کا مقصد صرف لوگوں کو دھوکہ دینا اور انہیں راہِ راست سے بھٹکانا تھا۔ وہ اپنے ان وسوسوں سے لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتے تھے تاکہ وہ حق کو قبول نہ کریں اور گمراہی میں مبتلا رہیں۔

اے نبی! اگر آپ کا رب چاہتا تو وہ ان کی ان حرکتوں کو روک دیتا اور انہیں یہ سب کرنے کی توفیق ہی نہ دیتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے انہیں چھوڑ دیا ہے تاکہ حق و باطل کا امتحان ہو اور لوگ اپنے اعمال کی حقیقت واضح طور پر دیکھ سکیں۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو ہمیشہ سے چلی آ رہی ہے۔

لہٰذا اے نبی! آپ ان لوگوں کی پرواہ نہ کریں اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں جو جھوٹ گھڑتے ہیں اور بہتان باندھتے ہیں۔ ان کی یہ ساری کوششیں بیکار جائیں گی اور اللہ تعالیٰ خود ان سے نمٹ لے گا۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں بہت اہم سبق دیتی ہے۔ جب اللہ کے برگزیدہ نبیوں کو بھی دشمنوں کا سامنا کرنا پڑا، تو ہم عام مسلمانوں کو تو صبر اور استقامت کا مظاہرہ کرنا ہی چاہیے۔ آج بھی اسلام کے دشمن طرح طرح کی خوشنما باتیں بنا کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ہمیں ڈرنا نہیں چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حق پر قائم رہیں، صبر کریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ یاد رکھیں، جو لوگ جھوٹ اور بہتان پھیلاتے ہیں، ان کا انجام برا ہوتا ہے، لیکن حق پر قائم رہنے والوں کو اللہ کی مدد ضرور حاصل ہوتی ہے۔ آئیے ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور دشمنوں کی خوشنما باتوں سے بچ کر قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگی گزاریں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 110-114 — انعام

110وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ
اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (تو) جیسے یہ اس (قرآن) پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے (ویسے پھر نہ لائیں گے) اور ان کو چھوڑ دیں گے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں
111۞ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ
اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو ان کے سامنے لا موجود بھی کر دیتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے اِلّا ماشائالله بات یہ ہے کہ یہ اکثر نادان ہیں
112وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا ۚ وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ
اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا تھا وہ دھوکا دینے کے لیے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ یہ افتراء کرتے ہیں اسے چھوڑ دو
113وَلِتَصْغَىٰ إِلَيْهِ أَفْئِدَةُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوا مَا هُم مُّقْتَرِفُونَ
اور (وہ ایسے کام) اس لیے بھی (کرتے تھے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی باتوں پر مائل ہوں اور وہ انہیں پسند کریں اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ہی کرنے لگیں
114أَفَغَيْرَ اللَّهِ أَبْتَغِي حَكَمًا وَهُوَ الَّذِي أَنزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا ۚ وَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزَّلٌ مِّن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ
(کہو) کیا میں خدا کے سوا اور منصف تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہاری طرف واضع المطالب کتاب بھیجی ہے اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات) دی ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق نازل ہوئی ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا
انعامقرآن فہرست
165آیت
مکیRevelation
112آیت

ترجمہ — انعام 112

سورہ انعام آیت 112 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں اور جنوں…

سورہ آیت 112/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 110–114. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں