انعام · 113/165
ترجمہ تلفظ — انعام
وَلِتَصْغَىٰ إِلَيْهِ أَفْئِدَةُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوا مَا هُم مُّقْتَرِفُونَ ۝١١٣
Wa litasghaaa ilaihi af`idatul lazeena laa yu`minoona bil Aakhirati wa liyardawhu wa liyaqtarifoo maa hum muqtarifoon
📖 اردو ترجمہ
اور (وہ ایسے کام) اس لیے بھی (کرتے تھے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی باتوں پر مائل ہوں اور وہ انہیں پسند کریں اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ہی کرنے لگیں

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لِتَصْغَىٰ: مائل ہو جائے، جھک جائے
  • أَفْئِدَةُ: دلوں (قلوب)
  • لِيَرْضَوْهُ: اسے پسند کر لیں، اس پر راضی ہو جائیں
  • لِيَقْتَرِفُوا: کمائیں، حاصل کریں
  • مُقْتَرِفُونَ: کمانے والے، حاصل کرنے والے

تفسیر:

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کے وسوسوں اور باطل باتوں کے انجام کو بیان فرمایا ہے۔ جب شیطان اور اس کے ساتھی اپنے دل فریب اور خوشنما کلمات پیش کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہے کہ ان باتوں کی وجہ سے اُن لوگوں کے دل مائل ہو جائیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا ہے، اور آخرت کی فکر سے بالکل بے نیاز ہیں۔

ان کے دل اس باطل اور زُخرف گفتگو کی طرف جھک جاتے ہیں، اور وہ اسے اپنے لیے پسند کر لیتے ہیں، کیونکہ یہ بات ان کی خواہشات نفسانی سے مطابقت رکھتی ہے۔ پھر وہ اس پر عمل پیرا ہو کر وہ سب کچھ کرتے ہیں جو انہوں نے کرنا ہے — یعنی گناہوں اور برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں، اور اس طرح اپنے لیے عذاب کا سامان مہیا کرتے ہیں۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو بیان فرمایا کہ یہ سب کچھ اللہ کے علم اور مشیت کے مطابق ہو رہا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں پر راضی ہے۔ بلکہ یہ ان کے لیے ایک شدید تہدید اور وعید ہے کہ وہ اپنے اختیار سے باطل کو اختیار کر رہے ہیں، اور اس کا انجام انہیں بھگتنا ہوگا۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے دلوں کی حفاظت کریں۔ شیطان کا حملہ ہمیشہ سیدھا نہیں آتا، بلکہ وہ خوبصورت باتوں، دل فریب دلائل اور خوشنما انداز میں آتا ہے۔ جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں اور وہ باطل کی چکاچوند سے محفوظ رہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور سمجھ عطا کی ہے، اور قرآن کریم کو ہدایت کا ذریعہ بنایا ہے۔ اگر ہم قرآن کی روشنی میں چلیں تو ہمارے دل سچائی کی طرف مائل ہوں گے، اور ہم شیطان کے فریب سے بچ سکیں گے۔ یاد رکھیں! جو لوگ آخرت پر یقین رکھتے ہیں، ان کے لیے کامیابی ہے، اور جو اس سے غافل ہیں، ان کا انجام بہت برا ہے۔ آئیے ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اپنے دلوں کو اللہ کے ذکر سے روشن رکھیں، تاکہ ہم باطل کی طرف مائل نہ ہوں اور اللہ کی رحمت کے مستحق بنیں۔



📜 آیت 111-115 — انعام

111۞ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ
اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو ان کے سامنے لا موجود بھی کر دیتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے اِلّا ماشائالله بات یہ ہے کہ یہ اکثر نادان ہیں
112وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا ۚ وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ
اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا تھا وہ دھوکا دینے کے لیے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ یہ افتراء کرتے ہیں اسے چھوڑ دو
113وَلِتَصْغَىٰ إِلَيْهِ أَفْئِدَةُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوا مَا هُم مُّقْتَرِفُونَ
اور (وہ ایسے کام) اس لیے بھی (کرتے تھے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی باتوں پر مائل ہوں اور وہ انہیں پسند کریں اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ہی کرنے لگیں
114أَفَغَيْرَ اللَّهِ أَبْتَغِي حَكَمًا وَهُوَ الَّذِي أَنزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا ۚ وَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزَّلٌ مِّن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ
(کہو) کیا میں خدا کے سوا اور منصف تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہاری طرف واضع المطالب کتاب بھیجی ہے اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات) دی ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق نازل ہوئی ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا
115وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سنتا جانتا ہے
انعامقرآن فہرست
165آیت
مکیRevelation
113آیت

ترجمہ — انعام 113

سورہ انعام آیت 113 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور (وہ ایسے کام) اس لیے بھی (کرتے تھے) کہ…

سورہ آیت 113/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 111–115. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں