ترجمہ — Tafsir
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"بے شک ہم نے انہیں آزمایا ہے جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا، جب انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ صبح ہوتے ہی اس کے پھل ضرور توڑیں گے۔"
معانی الفاظ:
- بَلَوْنَاهُمْ: ہم نے انہیں آزمایا، یعنی اہلِ مکہ کو قحط اور فاقوں کے ذریعے پرکھا۔
- أَصْحَابَ الْجَنَّةِ: باغ والے، یعنی وہ لوگ جن کے پاس ایک سرسبز باغ تھا۔
- لَيَصْرِمُنَّهَا: وہ اس کے پھل ضرور توڑیں گے یا کاٹیں گے۔
- مُصْبِحِينَ: صبح کے وقت، یعنی دن نکلتے ہی جلدی میں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اہلِ مکہ کے حال کا ذکر فرما رہے ہیں کہ ہم نے انہیں قحط اور بھوک کی آزمائش میں ڈالا، جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا۔ یہ باغ والے کون تھے؟ یہ ایک نیک آدمی کے باغ کے مالک تھے، جو اپنے باغ کی پیداوار میں سے غریبوں اور مسکینوں کا حصہ نکالتے تھے۔ جب وہ آدمی وفات پا گیا تو اس کے بیٹوں نے آپس میں مشورہ کیا اور بخل کی وجہ سے یہ طے کیا کہ اب ہم غریبوں کو کچھ نہیں دیں گے۔ انہوں نے آپس میں قسم کھائی کہ صبح سویرے، جب کوئی نہ ہوگا، ہم باغ کے تمام پھل توڑ لیں گے تاکہ کسی مسکین کو معلوم نہ ہو اور ہمیں کچھ دینا نہ پڑے۔ انہوں نے یہ بھی نہیں کہا کہ "ان شاء اللہ"، یعنی اپنے ارادے کو اللہ کی مشیت پر نہیں چھوڑا، بلکہ اپنی طاقت پر بھروسہ کیا۔
یہ واقعہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ مکہ کو بھی اسی طرح آزمایا، کیونکہ انہوں نے بھی اللہ کے نبی ﷺ کی دعوت کو جھٹلایا اور اپنے مال و دولت پر گھمنڈ کیا۔ جس طرح باغ والوں کی چال انہی پر الٹی پڑی اور اللہ نے ان کے باغ کو تباہ کر دیا، اسی طرح اہلِ مکہ کی ضد اور تکبر بھی ان کے لیے باعثِ عذاب بنے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کو آزماتا ہے، چاہے وہ امیر ہو یا غریب، طاقتور ہو یا کمزور۔ آزمائش کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دیکھا جائے کہ بندہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے یا اپنی خواہشات کے پیچھے چلتا ہے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ مال و دولت کا غرور انسان کو اندھا کر دیتا ہے۔ باغ والوں نے سوچا کہ ہم اپنے باغ کے مالک ہیں، جو چاہیں گے کریں گے، لیکن وہ بھول گئے کہ اصل مالک اللہ ہے اور وہی اپنی مخلوق کے رزق کا انتظام کرتا ہے۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا برکت کا ذریعہ ہے، اور بخل کرنا تباہی کا سبب بنتا ہے۔ اگر ہم اپنے مال میں سے اللہ کے بندوں کا حق ادا کریں گے تو اللہ ہمیں مزید دے گا، لیکن اگر ہم بخل کریں گے تو اللہ ہم سے لے لے گا۔
آئیے ہم اس آیت سے سبق حاصل کریں کہ اپنے ہر کام میں "ان شاء اللہ" کہیں، یعنی اللہ کی مشیت کو مقدم رکھیں، اور اپنے مال و دولت میں سے غریبوں اور محتاجوں کا حق ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور ان کے لیے بے شمار برکتیں نازل فرماتا ہے۔ یاد رکھیں، یہ دنیا کا مال فانی ہے، لیکن اللہ کے ہاں جو کچھ ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔ اللہ ہمیں بخل سے بچائے اور سخی بنائے، آمین۔
📜 آیت 15-19 — قلم
ترجمہ — قلم 17
سورہ قلم آیت 17 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ہم نے ان لوگوں کی اسی طرح آزمائش کی ہے…سورہ آیت 17/52 — قلم القلم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قلم سنیں, قلم ترجمہ, قلم mp3, قلم pdf. آیت 15–19. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








