اعراف · 11/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
وَلَقَدۡ خَلَقۡنَٰكُمۡ ثُمَّ صَوَّرۡنَٰكُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ لَمۡ يَكُن مِّنَ ٱلسَّٰجِدِينَ  ۝١١
Wa laqad khalaqnaakum summa sawwarnaakum summa qulnaa lilmalaaa`ikatis judoo li Aadama fa-sajadooo illaaa Ibleesa lam yakum minas saajideen
📖 اردو ترجمہ
اور ہم ہی نے تم کو (ابتدا میں مٹی سے) پیدا کیا پھر تمہاری صورت شکل بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا آدم کے آگے سجدہ کرو تو (سب نے) سجدہ کیا لیکن ابلیس کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں (شامل) نہ ہوا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • خَلَقْنَاكُمْ: ہم نے تمہیں پیدا کیا، یعنی تمہارے باپ آدم کو عدم سے وجود بخشا۔
  • صَوَّرْنَاكُمْ: ہم نے تمہاری صورت بنائی، یعنی آدم کو بہترین شکل و صورت عطا کی۔
  • اسْجُدُوا: سجدہ کرو، یہاں سجدہ تعظیمی اور احترامی ہے، عبادت کا سجدہ نہیں۔
  • إِبْلِيسَ: یہ جنات میں سے تھا، لیکن فرشتوں کے ساتھ عبادت گزار تھا، اس لیے حکم میں شامل تھا۔

تفسیر:

اے انسانو! اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم قدرت اور کمال رحمت سے تمہیں پیدا فرمایا۔ تمہارا آغاز تمہارے باپ حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا، جنہیں اللہ نے مٹی سے بنایا اور پھر انہیں بہترین صورت اور کامل ساخت عطا کی۔ یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی۔

پھر جب آدم علیہ السلام کی تخلیق مکمل ہوئی اور ان میں روح پھونکی گئی، تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں۔ یہ سجدہ عبادت کا نہیں تھا، بلکہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں آدم علیہ السلام کی تعظیم اور ان کے فضل و شرف کے اظہار کے لیے تھا۔ فرشتوں نے بلا کسی تردد کے اللہ کا حکم مان لیا اور سب نے آدم کو سجدہ کیا۔

لیکن ابلیس، جو اپنے عمل کی وجہ سے فرشتوں کے ساتھ شامل تھا، نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے تکبر اور حسد کی وجہ سے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ وہ ان سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا، کیونکہ اس کے دل میں غرور تھا اور وہ اپنے آپ کو آدم علیہ السلام سے بہتر سمجھتا تھا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت اور شرف عطا کیا، اور فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں۔ یہ انسان کی عظمت کا اظہار ہے۔ لیکن ابلیس نے تکبر کی وجہ سے یہ عزت کھو دی اور اللہ کی رحمت سے محروم ہو گیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے احکام کو بلا چون و چرا مان لیں، اور تکبر و حسد سے بچیں، کیونکہ یہی وہ صفات تھیں جن کی وجہ سے ابلیس اللہ کی رحمت سے دور ہو گیا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کے احکام کی تعمیل کرے اور اپنے خالق کے سامنے عاجزی اور فروتنی اختیار کرے، تاکہ اللہ کی رحمت اور فضل اس کا شامل حال ہو۔

🎧 سنیں

📜 آیت 9-13 — اعراف

9وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُم بِمَا كَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يَظۡلِمُونَ 
اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اس لیے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بےانصافی کرتے تھے
10وَلَقَدۡ مَكَّنَّٰكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيهَا مَعَٰيِشَۗ قَلِيلًا مَّا تَشۡكُرُونَ 
اور ہم ہی نے زمین میں تمہارا ٹھکانہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے سامان معشیت پیدا کئے۔ (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو
11وَلَقَدۡ خَلَقۡنَٰكُمۡ ثُمَّ صَوَّرۡنَٰكُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ لَمۡ يَكُن مِّنَ ٱلسَّٰجِدِينَ 
اور ہم ہی نے تم کو (ابتدا میں مٹی سے) پیدا کیا پھر تمہاری صورت شکل بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا آدم کے آگے سجدہ کرو تو (سب نے) سجدہ کیا لیکن ابلیس کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں (شامل) نہ ہوا
12قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسۡجُدَ إِذۡ أَمَرۡتُكَۖ قَالَ أَنَا۠ خَيۡرٌ مِّنۡهُ خَلَقۡتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقۡتَهُۥ مِن طِينٍ 
(خدا نے) فرمایا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا۔ اس نے کہا کہ میں اس سے افضل ہوں۔ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے بنایا ہے
13قَالَ فَٱهۡبِطۡ مِنۡهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَٱخۡرُجۡ إِنَّكَ مِنَ ٱلصَّٰغِرِينَ 
فرمایا تو (بہشت سے) اتر جا تجھے شایاں نہیں کہ یہاں غرور کرے پس نکل جا۔ تو ذلیل ہے
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
11آیت

ترجمہ — اعراف 11

سورہ آیت 11/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 9–13. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں