ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے (ان سے کہا) اے میری برادری کے لوگو خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا (بہت ہی) ڈر ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
نوح را بر قومش به رسالت فرستاديم. گفت: اى قوم من، اللّه را بپرستيد، شما را خدايى جز او نيست، من از عذاب روزى بزرگ بر شما بيمناكم.
نُوحًا: حضرت نوح علیہ السلام، جو اللہ کے برگزیدہ رسول تھے۔
قَوْمِهِ: ان کی قوم، جو بتوں کی پوجا کرتی تھی۔
اعْبُدُوا اللَّهَ: صرف اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ: تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔
عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ: ایک بڑے دن (قیامت یا طوفان) کا عذاب۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا، کیونکہ وہ قوم بتوں کی پوجا کرتی تھی اور اللہ کے ساتھ شرک کرتی تھی۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو پکارا اور کہا: "اے میری قوم! صرف اللہ کی عبادت کرو، کیونکہ تمہارے لیے اس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔ جو تمہاری عبادت کے لائق ہو، وہ صرف اللہ ہے۔ اگر تم اپنے ان بتوں کی پوجا پر قائم رہو گے اور اللہ کی توحید کو نہ مانو گے، تو مجھے تم پر ایک عظیم دن کے عذاب کا ڈر ہے۔" یہ دن قیامت کا دن ہے، جس میں ہر شخص کو اس کے اعمال کا حساب دیا جائے گا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد طوفان کا دن ہو جو ان پر آیا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دعوتِ توحید ہر نبی کا بنیادی پیغام تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو محبت اور شفقت سے پکارا، "یا قوم" کہہ کر، جو ان کی نرم دلی اور قوم سے محبت کا ثبوت ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں، انہیں شرک سے بچائیں اور آخرت کے عذاب سے ڈرائیں، لیکن نرمی اور حکمت کے ساتھ۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے، اس لیے ہمیں اپنی زندگی کو اللہ کی اطاعت میں گزارنا چاہیے اور اس کے رسولوں کے پیغام کو قبول کرنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ کی توحید کو قبول کرتے ہیں، وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوتے ہیں، اور جو اس سے منہ موڑتے ہیں، وہ نقصان اٹھاتے ہیں۔
ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے (ان سے کہا) اے میری برادری کے لوگو خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا (بہت ہی) ڈر ہے
اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت (یعنی مینھ) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری (بنا کر) بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بھاری بھاری بادلوں کو اٹھا لاتی ہے تو ہم اس کو ایک مری ہوئی بستی کی طرف ہانک دیتے ہیں۔ پھر بادل سے مینھ برساتے ہیں۔ پھر مینھ سے ہر طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو (زمین سے) زندہ کرکے باہر نکال لیں گے۔ (یہ آیات اس لیے بیان کی جاتی ہیں) تاکہ تم نصیحت پکڑو
جو زمین پاکیزہ (ہے) اس میں سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے (نفیس ہی) نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں جو کچھ ہے ناقص ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم آیتوں کو شکرگزار لوگوں کے لئے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں
ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے (ان سے کہا) اے میری برادری کے لوگو خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا (بہت ہی) ڈر ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔