ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الْمَلَأُ: قوم کے سردار، معزز اور بڑے لوگ۔
- ضَلَالٍ: گمراہی، راہِ راست سے بھٹکنا۔
- مُبِينٍ: واضح، کھلا ہوا۔
تفسیر:
جب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور انہیں بتوں کی عبادت سے منع کیا، تو ان کی قوم کے سرداروں اور بڑے لوگوں نے، جو اپنے منصب اور جاہ کی وجہ سے قوم پر اثر رکھتے تھے، حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا: "اے نوح! ہم تمہیں صریح گمراہی میں دیکھ رہے ہیں۔" انہوں نے اپنی سمجھ میں یہ بات بڑے یقین اور تکبر کے ساتھ کہی، حالانکہ حقیقت میں گمراہی خود ان کے پاس تھی اور نوح علیہ السلام ہدایت کے علمبردار تھے۔
یہ اندازِ گفتگو دراصل ان کے استکبار اور حق سے اعراض کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ اپنی قوم کے سردار تھے، اس لیے انہوں نے نوح علیہ السلام کو نیچا دکھانے کے لیے یہ الزام لگایا کہ تم راہِ راست سے بھٹک گئے ہو۔ لیکن یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی جاہلیت اور ضد کی وجہ سے حق کو قبول نہیں کیا اور اپنے انجام کو دعوت دی۔
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ حق کی دعوت دیتے وقت مخالفین کے طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن داعی کو ثابت قدم رہنا چاہیے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے ان کے الزامات کا جواب صبر اور حکمت سے دیا، جیسا کہ آگے کی آیات میں آتا ہے۔ یہ ہمارے لیے نمونہ ہے کہ دعوتِ حق پر قائم رہیں، چاہے لوگ کچھ بھی کہیں، کیونکہ اللہ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ دنیاوی جاہ و مرتبہ انسان کو حق سے اندھا کر سکتا ہے، اس لیے ہمیں ہمیشہ اللہ سے عاجزی اور انکساری کے ساتھ جڑے رہنا چاہیے، اور کبھی اپنے مقام یا دولت پر گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں متکبروں کے راستے سے بچائے۔ آمین۔
📜 آیت 58-62 — اعراف
ترجمہ — اعراف 60
سورہ اعراف آیت 60 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو جو ان کی قوم میں سردار تھے وہ کہنے…سورہ آیت 60/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 58–62. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








